لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

ایک مسئلہ دریافت کرناہے کہ میرا عقیقہ بچپن کے مستحب ایام میں نہیں ہوا اور میرے بڑے بھائی نے ایک بڑے بھائی کی شادی میں ایک گائے میں ہم سات بھائی بہنوں کا عقیقہ کیا، اس وقت میری عمر تقریبًا 20 سال تھی اور اس شادی میں میرے بھائی کو رشتہ داروں کی طرف سے تحفے تحائف بھی ملے۔ کیا اس صورت میں میرا عقیقہ ہوگیا یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

عقیقہ کا مستحب وقت ساتویں چودہویں اور اکیسویں تاریخ ہے، اکیس کے بعد وقت مستحب ختم ہو جاتا ہے تاہم زندگی میں کبھی بھی عقیقہ کی نیت سے کوئی چھوٹا جانور ذبح کیا جائے یا بڑے جانور کے ساتویں حصہ میں شرکت کی جائے اس سے بھی عقیقہ ادا ہو جائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر عقیقہ کی نیت سے بڑا جانور ذبح کیا گیا اور اس میں سات افراد کے عقیقے کی نیت کی گئی تو اس طرح سب کا عقیقہ ادا ہو گیا۔

أنها إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر، وإلا ففي الحادي والعشرین، ثم هکذا في الأسابیع) اعلاء السنن، باب العقیقه، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیه)

(وإن) (كان شريك الستة نصرانيًا أو مريدًا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم؛ لأن الإراقة لاتتجزأ، هداية؛ لما مر وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد، ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز؛ لأنها تقام شكرًا لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وأنه قال: لو كان من نوع واحد كان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف، بدائع". فقط والله أعلم(الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/326)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4530 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل