لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے گھر والے گھر میں پالتو کتا رکھنا چاہ رہے ہیں۔ میں ہمیشہ سے یہ سنتا آیا ہوں کہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمادیں کہ اس معاملے کو کیسے حل کیا جائے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

كتے كو شوقیہ پالنے کی غرض سے گھر میں رکھنا جائز نہیں۔ کیونکہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ. (صحيح البخاری،كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة) 

ترجمہ: ’’اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو‘‘۔

صحیح مسلم میں ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَی ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَی لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ. (صحيح مسلم، کتاب اللباس، باب تحريم تصوير…) 

ترجمہ: ’’آپ ﷺ نے فرمایا مجھ سے حضرت جبرائیل عليه السلام نے آج رات ملاقات کا وعدہ فرمایا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے اور اللہ کی قسم انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی پھر تمام دن وہ اسی طریقہ سے رہے اس کے بعد آپ ﷺکو خیال ہوا کہ ایک کتے کا پلا ہمارے تخت کے نیچے تھا آپ ﷺنے حکم فرمایا وہ باہر نکالا گیا پھر آپ ﷺ نے پانی لے کر اس جگہ چھڑک دیا۔ شام کے وقت حضرت جبرائیل تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے تو گزشتہ رات آنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا جی ہاں لیکن ہم لوگ اس مکان میں داخل نہیں ہوتے کہ جس جگہ کتا ہو یا تصویر ہو۔ چنانچہ اس صبح کو آپ ﷺ نے کتوں کے قتل کئے جانے کا حکم فرمایا‘‘۔

البتہ اگر کتے کو کھیتی کی حفاظت یا چوکیداری کی غرض سے گھر میں رکھا جائے یا شکاری کتا ہو، اس کو شکار کے لیے گھر میں رکھا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

حدیث مبارکہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ. (صحيح مسلم، کتاب المساقات، باب الأمر بقتل الكلاب…)

 ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے حفاظتی شکاری یا کھیتی کے کتے کے علاوہ کتا رکھا تو اس کے ثواب سے ہر دن ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے‘‘۔

لہذا گھر والے اگر شوقیہ کتا پالنا چاہتے ہیں تو ان کو سمجھا کراس سے روکا جائے، لیکن اگر شکار یا چوکیداری کی غرض سے گھر میں کتا رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر منع نہ کیا جائے۔ کیونکہ شکاری کتے یا چوکیداری کرنے والے کتے کا گھر میں رکھنا جائز ہے۔

[فرع] لا ينبغي اتخاذ كلب إلا لخوف لص أو غيره فلا بأس به ومثله سائر السباع عيني وجاز اقتناؤه لصيد وحراسة ماشية وزرع إجماعا (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 5/ 227)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3043 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل