لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

اگر کسی کی کچھ نمازیں رہتی ہوں اور وہ فوت ہو گیا تو اس کے ورثاء پر نمازوں کا فدیہ ادا کرنا جائز یا واجب ہے؟ اور اس کی مقدار کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر کسی کے ذمے کچھ نمازیں باقی ہوں اور وہ ان کو ادا کئے بغیر انتقال کر جائے تو اگر مرنے والے نے ان نمازوں کے فدیے کی وصیت کی ہے اور ان کی ملک میں مال بھی موجود ہے، تو ورثاء پر لازم ہے کہ ایک تہائی مال میں سےمیت کی وصیت کو پورا کریں اور جتنی نمازیں میت کے ذمے رہ گئی ہیں ہر ایک نماز کے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدار (پونے دو کلو گندم یا ساڑھےتین کلو جو، یا کھجور، یا کشممش) یا اس کی قیمت صدقہ کریں اور اگر وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر لازم نہیں کہ اپنی طرف سے اس شخص کی نمازوں کا فدیہ اداکریں لیکن اگر ورثاء فدیہ ادا کریں تو یہ تبرع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس سے امید ہے کہ اس کو قبول فرماکر میت کو معاف فرمائیں گے۔

(الف) ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصی بالكفارة يعطی لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة وكذا حكم الوتر والصوم وإنما يعطی من ثلث ماله (الدر المختار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت)

(ب) قوله (يعطی) بالبناء للمجهول أي يعطي عنه وليه أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصی وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر(رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب في اسقاط الصلاة عن المیت)

(ج) ثم اعلم أنه إذا أوصی بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالی فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصی بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة (رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب في اسقاط الصلاة عن المیت)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4326 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل