لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 قبروں اور مزارات پر جا کرمنّت اور دعا مانگنا شرک کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین کے مزارات پر اس نیت سے منت ماننا یا چڑھاوے چڑھانا کہ قبر میں موجود بزرگ مجھ سے خوش ہوکر میری مرادیں پوری کردے گا، شرکیہ فعل، ناجائز اور حرام ہے، ایسے افعال سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ مزارات پر دعا مانگنے کا حکم یہ ہے کہ اگر مزارایسا ہو کہ لوگ وہاں جاکر شرکیہ افعال انجام دیتے ہوں کہ صاحب قبر بزرگ کو متصرف فی الامور سمجھ کر ان سے مرادیں مانگتے ہوں تو ایسے مزارات پر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا مطلقاً ممنوع ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ اگر کسی بزرگ کا باقاعدہ مزار نہ ہو اور لوگ وہاں حاضر ہوکر شرکیہ افعال بھی انجام نہ دیتے ہوں تو ایسے مزارات پر قبلہ رو ہوکر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا جائز ہے۔

واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلی ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 2/ 439)

قال في البحر لوجوه منها أنه نذر لمخلوق ولا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك ومنها أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالی كفر اللهم إلا أن يقول يا لله إني نذرت لك أن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الفقراء الذين بباب الإمام الشافعي رضي الله عنه أو الإمام الليث أو اشتری حصرا لمساجد هم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلی غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل. (حاشية الطحطاوي علی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص: 693)

وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة كذا في خزانة الفتاوی. (الفتاوی الهندية، 5/ 350)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4510 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل