لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

ایک روایت سنی گئی ہے کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی تو چار لوگ اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان سے سوال ہوگا: شوہر، باپ، بھائی اور بیٹا۔ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ کسی کا قول ہے یا حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا حوالہ ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں ذکر کردہ ترتیب کے ساتھ  چار مردوں کا عورت کے پردہ نہ کرنے پر ذمہ دار ہونے کی صراحت نہیں ہے تاہم ان چاروں کے ذمہ اپنی ماتحت خواتین کی دینی اور اخلاقی تربیت کی ذمہ داری ہے اور پردہ بھی چونکہ ایک دینی حکم ہے، اس لئے ان پر لازم ہے کہ گھر میں موجود ماتحت خواتین کو پردے کی ترغیب دے کر ان کو پردے کا پابند بنائیں اور یہ ذمہ داری متعدد روایات سے ثابت ہے ۔

اللہ  تعالی کا ارشاد ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ. (التحريم:6)

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ 

بخاری شریف میں ہے: عن عبد الله، قال النبي صلی الله عليه وسلم: «كلكم راع وكلكم مسئول، فالإمام راع وهو مسئول، والرجل راع علی أهله وهو مسئول، والمرأة راعية علی بيت زوجها وهي مسئولة، والعبد راع علی مال سيده وهو مسئول، ألا فكلكم راع وكلكم مسئول. (صحيح البخاري، 7/ 27)

 ترجمہ: ’’تم ميں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور تم میں سے ہر ایک سے  سوال کیا جائے گا، امامِ وقت ذمہ دار ہے، اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے (کہ وہ ان کو اللہ تعالی کی اطاعت کا حکم دے اور ان کو برے کاموں سے روکے) اس سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، آگاہ رہو ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کا سوال کیا جائے گا‘‘۔

حدیث شریف میں ہے:عبد الله بن عمر أن رسول الله -صلي الله عليه وسلم- قال: "ثلاثة قد حَرّم الله عليهم الجنة، مدْمِن الخمر، والعاقّ، والدّيُّوث، الذي يُقِرُّ في أهله الخَبَثَ". (مسند أحمد ت شاكر، 5/ 40)

ترجمہ: ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگوں پر اللہ نے جنت حرام کی ہے، شرابی پر، نافرمان پر اور دیوث پر جو اپنے اہل خانہ میں برائی اور بے حیائی کو برقرار رکھتا ہے‘‘ (یعنی ان کو زنا اور اس جیسے بے حیائی کے کاموں سے نہیں روکتا اور ان میں برائیاں دیکھتا ہے پھر بھی اس پر تنبیہ نہیں کرتا)۔

(والرجل راع علی أهله) يأمرهم بطاعة الله وينهاهم عن معاصيه ويقوم عليهم بما لهم من الحق. (شرح القسطلاني إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، 8/ 79)

(الخبث) أي الزنا أو مقدماته وفي معناه سائر المعاصي كشرب الخمر وترك غسل الجنابة ونحوهما، قال الطيبي: أي الذي يری فيهن ما يسوءه ولا يغار عليهن ولا يمنعهن فيقر في أهله الخبث. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، 6/ 2390)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4536 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل