لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

ایک گورنمنٹ ٹیچر کی دوران سروس وفات ہوئی ہے اور ان پر قرض بهی تها تو اس صورت میں حکومت کی طرف سے ورثاء کو ملنے والے فنڈز میں سے ایک بیٹا اپنے حصے میں آنے والی رقم میں سے قرض دیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ یا وراثت تقسیم ہونے سے پہلے قرض ادا کرنا لازمی ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

حکومت کی طرف سے ورثاء کو ملنےو الے فنڈز کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو وہ فنڈزجو میت کی زندگی میں اس کی ملکیت شمار ہوتے ہیں جیسے جی پی فنڈ اور ایک وہ جو میت کی ملکیت شمار نہیں ہوتے بلکہ حکومت کی طرف سے ورثاء کو ملتے ہیں پہلی قسم کے فنڈز میت کے ترکہ میں شامل ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے فنڈز میت کے ترکہ میں شامل نہیں ہوتے بلکہ حکومت جس کے نام سے فنڈ جاری کرے وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں ورثاء کو جو فنڈ ملا اگر وہ میت کی ملکیت میں تھا تو یہ ترکہ شمار ہوگا اس رقم اور میت کے دیگر مال کی تقسیم سے پہلے اس کا قرض ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر یہ فنڈ میت کی ملکیت میں نہیں تھا بلکہ حکومت کی طرف سے ورثاء کوتبرعاً ملا تواگر مرحوم کی ملکیت میں اس قدر مال جس سے قرض کی ادائیگی ممکن ہو، موجود ہے تو اس سے قرض کی ادائیگی کی جائے اور اگر اس قدر مال موجود نہیں جس سے قرض کی ادائیگی ممکن ہوورثاء کو چاہیے کہ اپنی طرف سے مرحوم کا قرض اتارنے کی کوشش کریں، تاکہ ان کی گردن خلاصی ہوجائے۔

(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت علی التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخری وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة علی دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالی فإن أوصی به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة علی الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته). (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/ 759)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4528 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل