لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا نظریہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں اور ساتھ یہ بھی بتادیں کہ ایک عام شخص کو کونسا نظریہ رکھنا چاہیے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اصطلاحِ صوفیہ میں ’’وحدت الوجود‘‘ کے دیگر عنوانات توحید، عینیت اور مظہریت بھی ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود کامل ہے اور اس کے مقابلہ میں تمام ممکنات کا وجود اتنا ناقص ہے کہ کالعدم ہے، عام محاورہ میں کامل کے مقابلہ میں ناقص کو معدوم سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسےکسی بہت بڑے علامہ کے مقابلہ میں معمولی تعلیم یافتہ کو یا کسی مشہور پہلوان کے مقابلہ میں معمولی شخص کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں، حالانکہ اس کی ذات  اور صفات موجود ہیں مگر کامل کے مقابلہ میں انھیں معدوم قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وجود کامل کے سامنے تمام مخلوق کے وجود کو حضرات صوفیہ معدوم قرار دیتے ہیں۔ یعنی وحدت الوجود کے یہ معنیٰ نہیں کہ سب ممکنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے وجود سے متحد ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وجود کامل صرف واحد ہے، بقیہ موجودات کالعدم ہیں جیسے کوئی بادشاہ کے دربار میں درخواست پیش کرے، بادشاہ اسےچھوٹے حکام کی طرف رجوع کا مشورہ دے اور یہ جواب میں کہے کہ حضور آپ ہی سب کچھ ہیں، تو اس ککا یہ مطلب نہیں کہ سب حکام آپ سے متحد ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے سب حکام کالعدم ہیں۔ (ماخوذ از احسن الفتاویٰ: 1\554)

نظریہ ’’وحدت الوجود‘‘ کا صاف، واضح اور درست مطلب یہی ہے، اس کے علاوہ کچھ فلسفی اور ملحدین کی طرف سے اس عقیدے کی ایسی تشریحات بھی کی گئی تھیں جن کی بناء پر ہر نظر آنے والی شے پر اللہ تعالیٰ کا اطلاق درست ہے۔ چنانچہ ایسی ملحدانہ تعبیر کے مقابلے میں شیخ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے اس نظریے کی اصلاح کے لیے اس کے مد مقابل ایک نیا نظریہ پیش فرمایا جسے وحدت الشہود کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کی رو سے خالق اور مخلوق دونوں کا وجود بالکل الگ الگ ہے، البتہ مخلوق اپنے وجود کے لیے ہر لحظہ خالق کی محتاج ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے سورج اور اس کی روشنی، کہ روشتی کا وجود ہر لمحہ سورج ہی کے دم سے ہے مگر اس کے باوجود روشنی سورج سے علیحدہ وجود کی حامل ہے۔ ان دونوں نظریات کو اگر اسی تشریح سے سمجھا جائے تو دونوں ہی درست ہیں۔ لیکن اگر وحدت الوجود کو اس تعبیر سے ہٹ کر کسی ملحدانہ تعبیر سے سمجھا جائے تو انتہائی گمراہ کن ہو سکتا ہے۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ ان اصطلاحات کے چکر میں پڑے اپنا ایمان اس بات پر رکھا جائے کہ ہر شے کے مقابلے میں کامل ترین وجود ذات باری تعالیٰ کا ہے اور ذات باری تعالیٰ اپنے علاوہ تمام موجودات کی خالق ہے، اور مخلوق کا وجود خالق سے جدا ہے لیکن اس کے باوجود ہر مخلوق اپنے وجود میں خالق ہی کی محتاج ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4503 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل