لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

میری والدہ کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور جسم بھی کافی بھاری ہوچکا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ نہا کر آتی ہیں تو ان کے بال کافی الجھے ہوئے ہوتے ہیں تو ہم بھائی ان کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس سے ان کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور بال ٹوٹتے بھی ہیں۔ کیا ان کےلیے بال کٹوانا یا کندھوں تک کروانا جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

خاتون کے لیے کسی شدید مجبوری کے بغیرسر کے بال کٹوانا جائز نہیں، یہ سخت گناہ ہے، اس پر وعید آئی ہے۔ سوال میں لکھی ہوئی بات کوئی ایسی شدید مجبوری نہیں ہے جس سے مذکورہ خاتون کے لیے سر کے بال کٹوانا جائز ہوجائے۔ اس لیے بالوں کو سلجھانے کے لیے تیل، شیمپو، وغیرہ استعمال کریں، بال نہ کٹوائیں۔

قَوْلُهُ: وَتُمْنَعُ مِنْ حَلْقِ رَأْسِهَا. أَيْ حَلْقِ شَعْرِ رَأْسِهَا. أَقُولُ ذَكَرَ الْعَلَّامِيُّ فِي كَرَاهَتِهِ أَنْ لَا بَأْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَحْلِقَ رَأْسَهَا لِعُذْرٍ: مَرَضٍ وَوَجَعٍ وَبِغَيْرِ عُذْرٍ لَا يَجُوزُ. (انْتَهَی). وَالْمُرَادُ بِلَا بَأْسَ هُنَا الْإِبَاحَةُ لَا مَا تَرْكُ فِعْلِهِ أَوْلَی، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ بِحَلْقِ شَعْرِ رَأْسِهَا إزَالَتُهُ سَوَاءٌ كَانَ بِحَلْقٍ أَوْ قَصٍّ أَوْ نَتْفٍ أَوْ نُورَةٍ. فَلْيُحَرَّرْ، وَالْمُرَادُ بِعَدَمِ الْجَوَازِ كَرَاهِيَةُ التَّحْرِيمِ لِمَا فِي مِفْتَاحِ السَّعَادَةِ، وَلَوْ حَلَقَتْ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ ‌تَشَبُّهًا بِالرِّجَالِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهَا مَلْعُونَةٌ. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، ٣/ ٣٨١)

قَطَعَتْ شَعْرَ رَأْسِهَا أَثِمَتْ وَلُعِنَتْ زَادَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ وَإِنْ بِإِذْنِ الزَّوْجِ لِأَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار، ٦/ ٤٠٧)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3119 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل