لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

ایک خاندان میں جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ ہے، وه یہ کہ چھ سال پہلے والدین کی وفات کے بعد تمام بہنوں اور بھائیوں نے آپس میں طے کیا کہ شریعت کے مطابق حصہ تقسیم ہو گا اور اس وقت کی قیمت کے مطابق دو بہنوں کو حصہ سے بڑھ کر ادائیگی بھی کردی، ایک بہن نے کہا میں نے رقم نہیں فلیٹ لینا ہے تو ان کی یہ بات بھی مان لی گئی، اعتماد کی وجہ سے کوئی تحریر نہیں کی، کچھ کاغذات کی وجہ سے عدالت میں بیان دینے میں تاخیر ہوئی لیکن سب بہن بھائی اس پر متفق تھے۔ اب سال ۲۰۲۰ء میں بیان ہونے ہیں، تو کچھ شرارتی افراد نے بہنوں کو کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ ابھی جائیداد تمہارے والدین کے نام ہی ہے تو بیان بعد میں دینا پہلے آج کی قیمت کے مطابق حصہ وصول کرو۔ اس بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے جب کہ چھ سال قبل ہر بات طے ہو گئی تھی۔ کیا بھائی آج کی قیمت کے مطابق ادائیگی کریں گے؟ بہت پریشانی ہے، تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں چونکہ والدین کی وفات کے بعد شرعی طور پر مکان تقسیم نہیں ہوا اور نہ ہی کسی بھائی کے ذمہ بہنوں کا حصہ بطور قرض مقرر کیا گیا تو ایسی صورت میں جن ورثاء کے درمیان مکان تقسیم ہونا ہے ان کے درمیان موجودہ ویلیو کے حساب سے تقسیم ہوگا باقی جن دو بہنوں کو 6 سال پہلے جو ادائیگی کی گئی وہ درست ہے اور چونکہ وہ حصہ ان دو بہنوں نے اپنی رضامندی سے لیا تو اب بقیہ جائیداد میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) علی العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (الدر المختار، فصل في التخارج)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4274 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل