لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

آن لائن ڈراپ شپنگ کے بارے میں رہنمائی کردیں کہ کیا شرعی طور پر یہ حلال کاروبار ہے؟

آن لائن ڈراپ شپنگ بزنس میں مال قبضے میں نہیں لیا جاتا اور پروڈکٹ کی ویب سائٹ پر ساری معلومات دی جاتی ہیں اور جب آرڈر آتا ہے تو مینوفیکچرر سے رابطہ کر کے وہ پروڈکٹ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا ایک مڈل مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں تین باتیں بہت اہم ہیں جو درج ذیل ہیں:

1۔ مال قبضے میں نہیں ہوتا۔

2۔ جب آرڈر آتا ہے تو پروڈکٹ خریدنے کے بعد مینوفیکچرر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدار کے پتے پر بھیج دے۔

3۔ آرڈر ملنے سے پہلے  مینوفیکچرر کے ساتھ ڈراپ شپنگ ایجنٹ کا یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ مینوفیکچرر کی پروڈکٹ پرافٹ رکھ کر آگے سیل کرے گا، یعنی جو بھی  قیمت مینوفیکچرر نے بتائی ہے اس پر پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ ایجنٹ پروڈکٹ کو قبضے میں لیے بغیر اگر خریدار کو سیل کرتا ہے، پھر جو آرڈر آتا ہے تو ڈراپ شپر پروڈکٹ خرید کر مینوفیکچرر کے ذریعے وہ پروڈکٹ ڈیلیور کرتا ہے۔ یہ بات مینوفیکچرر کو پتا ہوتی ہے مگر خریدار سے یہ بات چھپی ہوتی ہے۔

کیا یہ بزنس شرعی طور پر حلال ہے؟ کیوں کہ اس کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح ہو کہ جو چیز ملکیت میں داخل نہ ہو اس کو آگے فروخت کرنا شرعا جائز نہیں ہے، آن لائن ڈراپ شپنگ میں اگر مال، فروخت کرنے والے کی ملک میں موجود ہو تو اس کو آگے فروخت کرنا جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔ البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں بن سکتی ہیں۔

1۔ مال ملک میں نہ ہونے کی صورت میں پکا سودا نہ کرے، بلکہ آرڈر لے اور مال مِلک میں آنے پر سودا پکا کرے۔

2۔ جس کمپنی یا اسٹور کا مال ہے ان کا ایجنٹ بن کر کام کرے اور کمیشن حاصل کرلے۔

في الصحيح لمسلم: بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ . . . أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ. (الصحيح لمسلم، كتاب البيوع)

قال النووي في شرحه: وفي هذه الأحاديث النهي عن بيع المبيع حتی يقبضه البائع واختلف العلماء في ذلك فقال الشافعي لا يصح بيع المبيع قبل قبضه سواء كان طعاما أو عقارا أو منقولا أو نقدا أو غيره وقال عثمان البتي يجوز في كل مبيع وقال أبو حنيفة لا يجوز في كل شيء إلا العقار. (شرح النووي علی مسلم 10/ 170)

يجوز عند أبي حنيفة وأبي يوسف خلافاً لبقية الفقهاء بيع العقار قبل قبضه من المشتري، أما المنقول فلا يجوز بيعه قبل القبض أو التسليم؛ لأن المنقول عرضة للهلاك كثيراً بعكس العقار. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي 4/ 2884)

وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم. (الفتاوی الهندية، كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4384 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل