لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

میرا چھوٹا بھائی جو بالغ ہے اور یونیورسٹی میں پڑھائی کررہا ہے، اس کے پاس اپنی کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے اگرچہ وہ نوکری تلاش کررہاہے۔ اس کی پڑھائی کا اور کھانے پینے کا خرچہ ماں باپ اٹھاتے ہیں، لیکن والدین کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ وہ اس کے ذاتی خرچوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ذاتی خرچے جیسے سواری، موبائل بیلنس، کپڑے، جوتے اور اسی طرح کے ذاتی خرچے۔ میں اس کا بڑا بھائی اور میں ہر سال اپنے مال میں سے زکوٰۃ بھی نکالتا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ کیا میں اس کا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اس کے ذاتی خرچوں کو اپنی زکوٰۃ میں سے ادا کرسکتا ہوں؟ یہ بھی واضح رہے کہ اس کی ذاتی خرچوں میں کچھ ایسی بھی چیزیں ہیں جو غیر ضروری ہوتی ہیں، جیسے سپورٹس آئٹمز، لیپ ٹاپ، جم فیس اور دوسرے لگژری آئٹمز۔ برائے مہربانی اس مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر آپ کے بھائی کے پاس ضرورت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار کوئی مال نہیں ہے تو آپ اپنے بھائی کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ کا بھائی فضول خرچ ہے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کسی اور مستحق کو زکوۃ کی رقم دی جائے۔

وفي الجوهرة الغني هو من يملك نصابا من النقدين أو ما قيمته نصاب.

وفي القهستاني: الفقير من له دون النصاب أي غير ما يبلغ نصابا قدر مائتي درهم أو قيمتها وبهذا ظهر أن المعتبر نصاب النقدين من أي مال كان بلغ نصابا أي من جنسه أو لم يبلغه كما في نظم الوهبانية وشرحه له وفي شرحه لابن الشحنة. (مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر (1/ 223)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4413 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل