لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

مرد کو گھٹنے چھپانے چاہیئں، لیکن اگر نہ چھپائے تو کیا یہ حرام ہے؟ اس کا تحقیقی جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ہے اور گھٹنا ستر میں شامل ہے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ شرعی اور طبعی ضرورت کے علاوہ کسی کے سامنے کھولنا ناجائز اور حرام ہے۔ 

احادیث شریفہ میں اس حصے کو چھپانے کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے: أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: "لا تنظر المرأة إلى عورة المرأة ولا ينظر الرجل إلى عورة الرجل. (سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، 1/ 421) 

ترجمہ: ’’رسول الله ﷺ نے فرمايا: كوئی عورت کسی عورت کا ستر نہ دیکھے اور کوئی مرد کسی مرد کا ستر نہ دیکھے‘‘۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ – رضي الله عنهما – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: "مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ (الجامع الصحيح للسنن والمسانيد، 24/ 316) 

ترجمہ: ’’عبد اللہ بن جعفر بن ابو طالب فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمايا: ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے‘‘۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مروا صبيانكم بالصلاة لسبع، واضربوهم عليها لعشر، وفرقوا بينهم في المضاجع، وإذا زوج أحدكم عبده أو أمته أو أجيره فلا تنظر الأمة إلى شيء من عورته، فإن ما تحت السرة إلى ركبته من العورة " (السنن الكبرى للبيهقي، 2/ 324) 

ترجمہ: ’’رسول الله ﷺ نے فرمايا: اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کا ہونے پر (نماز کا عادی نہ ہونے کی صورت میں) ان کو سزا دو  اور ان کے بستر الگ کردو (یعنی دس سال کی عمر پوری ہونے کے بعد لڑکی اپنے والد کے ساتھ ایک بستر میں نہ سوئے، لڑكا اپنی والده كے ساتھ ایک بستر میں نہ سوئے، بھائی بہن ایک بستر میں نہ سوئیں) جب تم میں سے کوئی اپنے غلام یا باندی یا اجیر کی شادی کرائے تو پھر باندی اپنے آقا کا ستر نہ دیکھے کیونکہ ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر میں داخل ہے‘‘۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ» (سنن الدارقطني، 1/ 431)

 ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھٹنہ ستر کا حصہ ہے‘‘۔

زرعة بن عبد الرحمن بن جرهد الأسلمي، عن جده جرهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر عليه وفخذه مكشوفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غط فخذك يا جرهد، فإن الفخذ عورة» (المعجم الكبير للطبراني (2/ 271)

 ترجمہ: ’’زرعہ بن عبد الرحمن بن جرہد اسلمی اپنے دادا جرہد سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے، ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اے جرہد اپنی ران کو چھپاؤ کیونکہ ران ستر کا حصہ ہے‘‘۔

عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ» سنن الترمذي ت شاكر (5/ 112)

 ترجمہ: ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم برہنا ہونے سے بچو کیونکہ ایک مخلوق (فرشتے) تمہارے ساتھ ہر وقت ہوتے ہیں سوائے قضائے حاجت کے اور بیوی کے ساتھ ہمبستری کے لہذا تم ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام کرو‘‘۔

ويجوز أن ينظر الرجل إلى الرجل إلا إلى عورته كذا في المحيط وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار. وعورته ما بين سرته حتى تجاوز ركبته، كذا في الذخيرة وما دون السرة إلى منبت الشعر عورة في ظاهر الرواية (الفتاوى الهندية، 5/ 327)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3949 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل