لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

کورونا کی وبا کے بعد جبکہ حکومت کی جانب سے SOPs پر مکمل عمل درامد کے بعد مساجد میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے، الحمدللہ۔ مگر ہمارے ادارے جہاں میں نوکری کرتا ہوں ، وہاں پر تمام ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانے پر پابندی ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ آپ دفتر میں ہی جمعہ کی نماز پڑھ لیں یا پڑھا لیں۔ اگر آپ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد گئے تو نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کی جانب سے نرمی کی گئی مگر ایک نجی ادارہ اپنے ملازمین کے ایسا حکم نامہ جاری کرےتو ہم کیا کریں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نماز جمعہ دفتر میں ہی ادا کرسکتے ہیں جبکہ دفتر میں موجود ایک ساتھی جو با شرع ہیں، نماز جمعہ کا خطبہ بھی وہ پڑھ سکتے ہیں اور باجماعت نماز اور خصوصاً نماز جمعہ کے مسائل کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح ہو کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کےلیے مسجد ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ شہر کی حدود میں مسجد کے علاوہ عیدگاہ، میدان، کسی بڑے ہال وغیرہ میں جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اگر یہ ادارہ شہر کی حدود کے اندر ہے تو اس میں خطبہ اور صحت جمعہ کی  دیگر شرائط کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے، البتہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ادارے کے اندر پڑھی جانے والی نماز جمعہ میں ادارے سے غیر متعلقہ لوگوں کے لیے بھی شرکت کی عمومی اجازت ہو۔ لیکن اگر حفاظتی ضروریات کے پیش نظر جمعہ پڑھنے کی اجازت محض ادارے سے متعلقہ افراد تک ہی محدود رکھی جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی آبادی ایسی ہے جس میں معتد بہ لوگ رہتے ہیں اور وہ شہر کے اندر بھی ہے لیکن دفاعی، انتظامی یا حفاظتی وجوہ سے اس آبادی میں ہر شخص کو آنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ وہاں کا داخلہ ان وجوہ کی بنا پر کچھ خاص قواعد کا پابند ہے تو اس آبادی کے کسی حصے میں ایسی جگہ جمعہ پڑھنا جائز ہے جہاں اس آبادی کے افراد کو آ کر جمعہ پڑھنے کی اجازت ہو۔ مثلاً بڑی جیل، فوجی چھاؤنی، بڑی فیکٹریاں، ایسے بڑے ایئرپورٹ جو شہر کے اندر ہوں اور ان میں سینکڑوں لوگ ہر وقت موجود رہتے ہیں، لیکن ان میں داخلے کی اجازت مخصوص قواعد کی پابند ہے، تو ان تمام جگہوں پر جمعہ جائز ہوگا، بشرطے کہ وہ شہر میں داخل ہوں، اور اس جیل چھاؤنی، بڑی فیکٹری، ایئر پورٹ یا ریلوے اسٹیشن کے تمام افراد کو نماز کی جگہ آکر نماز جمعہ پڑھنے کی کھلی اجازت ہو۔‘‘ (فتاوی عثمانی جلد اول، کتاب الصلاۃ، ص: 528)

قلت: ولا يخفى بعده عن السياق. وفي الكافي التعبير بالدار حيث قال: والإذن العام وهو أن تفتح أبواب الجامع ويؤذن للناس، حتى لو اجتمعت جماعة في الجامع وأغلقوا الأبواب وجمعوا لم يجز، وكذا السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره فإن فتح بابها وأذن للناس إذنا عاما جازت صلاته شهدتها العامة أو لا وإن لم يفتح أبواب الدار وأغلق الأبواب وأجلس البوابين ليمنعوا عن الدخول لم تجز لأن اشتراط السلطان للتحرز عن تفويتها على الناس وذا لا يحصل إلا بالإذن العام. اهـ. قلت: وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعددت فلا لأنه لا يتحقق التفويت كما أفاده التعليل تأمل (قوله لم تنعقد) يحمل على ما إذا منع الناس فلا يضر إغلاقه لمنع عدو أو لعادة كما مر ط. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، 2/ 152)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4520 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل