لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

 ہم عرصہ ایک سال سے Forex Expert Adviser Tradingکر رہے ہیں اور ہم جس بروکر کے ساتھ کام کررہے ہیں اس کا نام Bitkryptonہے۔ اس میں ہم Invistmentدیتے ہیں اور وہ اسے مختلف چیزوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ مثلاً Silver, Gold, Criud,Oilاور مختلف ممالک کی کرنسز میں ہماراپیسہ Distributeکردیتا ہے اور اس میں Tradکرکے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر نفع دیتا ہے۔ نفع کی جو شرح ہے وہ مکمل انویسٹمنٹ کا 0.50% دیتاہے۔ نفع ہفتہ میں 5 دن ملتا ہے ہفتہ اور اتوار مارکیٹ بند ہوتی ہے۔ بروز پیر سے جمعرات نفع کی شرح  Same. 0.50% ہوتی ہے اور جمعہ والے دن مارکیٹ بہت زیادہ Up اور Down ہوتی ہے۔ جمعہ والے دن نفع کی شرح0.50% سے بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نفع کی شرح فکس نہیں ہے۔ بروکر کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عرصہ 730دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ہمیں ماہانہ کی بنیاد پر نفع کی شرح 9% تا14تک دیتا ہے۔ بروکر جو کہ یہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہماری اصل انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہیں کرتا ہے جبکہ صرف ہمیں نفع کی رقم وصول ہوتی ہے۔ کیا یہ کاروبار اسلام کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمیں ملنے والا منافع سود تو نہیں ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

فاریکس ٹریڈنگ کا کاروبار شرعی اعتبار سے بہت سے مفاسد پر مشتمل ہونے کی بنیاد پر ناجائز ہے۔ سوال میں مذکور صورت کو فاریکس ٹریڈنگ کا نام دیا گیا ہے جبکہ در حقیقت یہ صورت  فاریکس ٹریڈنگ سے مختلف ہے کیونکہ فاریکس ٹریڈنگ کرنے والا شخص ہر سودا خود کرتا ہے، البتہ ان سودوں کے لئے دلال کو حکم دیتا ہے۔ جبکہ سوال میں مذکور صورت میں ایجنٹ، صارف کے نام سے اکاؤنٹ کھول کر اس سے ایک معتد بہ رقم لے کر اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے اور از خود کاروبار کر کے ایک خاص شرح کے ساتھ نفع کے نام پر کچھ رقم صارف کو دیتا ہے، نیز اس میں اصل رقم کی واپسی بھی ممکن نہیں اس لئے مذکورہ معاملہ در حقیقت سودی قرض ہے جس کی بناء پر رقم دینے والا شخص متعین رقم دے کر قسطوں میں زیادہ رقم وصول کر رہا ہے۔

لہذا مذکورہ معاملہ سودی قرض ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے۔ رقم دینے والے شخص پر لازم ہے کہ زائد رقم کو بلا نیت ثواب صدقہ کر دے۔

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 5/ 166)

لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/ 385)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4500 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل