لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

حصول اولاد کے جدید طریقوں کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔ آج کل یہ طریقے یورپ اور انڈیا میں بہت عام ہوچکے ہیں، پاکستان میں ابھی اس کا رجحان کم ہے، لیکن جس طرح نئی چیزیں بہت جلد اپنالی جاتی ہیں توخطرہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ عام نہ ہوجائے۔ حصول اولاد کے فطری طریقے کے علاوہ دو اور طریقے ہیں:

۱۔ ایک اسپرم بینک کا طریقہ ہے، اس میں یہ ہے کہ ایک مرد اپنا مادہ تولید اسپرم بینک کو ڈونیٹ کردیتا ہے اور اس میں اس کے ساتھ اس کی تفصیلات لکھی ہوتی ہیں کہ فلاں شخص کا ہے، فلاں علاقے کا ہے، رنگ ایسا ہےاور اس شخص میں یہ یہ خامیاں اور یہ یہ خوبیاں ہیں، وغیرہ۔ پھر کوئی خاتون آکر اپنی مرضی کا اسپرم لے کر اپنے رحم میں رکھوالیتی ہے اور پھر وہ حاملہ ہوجاتی ہے اور ڈیلیوری ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ حرام ہی لگتا ہے کہ غیر محرم کامادہ تولید اپنے رحم میں رکھوانا زنا کہلائے گا اور اولاد ولد الزنا کہلائے گی، اس بارے میں شرعی حکم بیان فرمادیں۔ 

۲۔ دوسرا طریقہ سیروگیسی مدر(Surrogacy Mother) کا ہے، جیسے کچھ خواتین ہوتی ہیں جن کے ہاں حمل ٹھہرتا نہیں ہے، یا اگر ٹھہرتا ہے تو گرجاتا ہے تو اس میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا مادہ تولید اور عورت کا ایک خاص حصہ لے کر ملاکر ایک خاص ماحول میں رکھا جاتا ہے، جب وہ حمل بڑھ جاتا ہے تو اس بچے کو دوبارہ ماں کے رحم میں لگادیا جاتا ہے، یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بیز (Test Tube Babies) کہلاتے ہیں۔ سیروگیسی مدر میں یہ ہوتا ہے کہ مرد کے مادہ تولید اور عورت کے حصے کے ملاپ کے بعد وہ بچہ اسی عورت میں لگانے کے بجائے کسی اور عورت کے رحم میں لگادیا جاتا ہے اور وہ عورت اس کی سیروگیسی مدر کہلاتی ہے، پھر جب نو مہینے پورے ہونے کے بعد وہ بچے کو جنم دے دیتی ہے تو دوبارہ وہ اصل ماں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ اس کی اصل ماں کہلائے گی، وہ عورت سیروگینٹ ماں کہلائے گی اور بچہ سیروگینٹ بچہ کہلایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ یہ میرے دوست کا یورپ سے سوال ہے اس نے بتایا کہ یورپ میں بہت زیادہ یہ طریقہ رائج ہے، اس سے فائدہ یہ ہے کہ وہ حمل اور بچہ جننے کی تکلیف سے بچ جاتی ہے اور بچہ بھی لوٹادیا جاتا ہے۔ جبکہ سیروگینٹ مدر کو اس کے بدلے دس ہزار ڈالر مل جاتے ہیں۔ اس کو یہی کہا کہ بظاہر تو حرام ہی لگتا ہے تو اس نے کہا کہ دائیاں جو دودھ پلاتی ہیں اس میں بھی تو کچھ نہ کچھ دوسری عورت کا حصہ مل جاتا ہے تو اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، شادی اس کا ایک ظاہری اور فطری سبب ہے۔ اگر شادی کے بعد فطری طریقے سے اولاد کی نعمت حاصل ہوجائے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر کسی میاں بیوی کے ہاں فطری طریقے سے اولاد پیدا نہ ہو تو ان کو صبر کرنا چاہیے۔ یہی اعتقاد رکھا جائے کہ اس میں ہمارے حق میں خیر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے ہی ہمیں اولاد سے محروم رکھا۔ اولاد کے حصول کے لئے جو مصنوعی طریقے اپنائے جاتے ہیں ان میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں مثلا غیر مرد کا نطفہ استعمال کرنا جو کہ غیر شوہر کے مادے سے انتفاع کی وجہ سے ناجائز ہے یا پھراپنا نطفہ بیوی کے علاوہ کسی کے رحم میں رکھنا جو کہ عورت کے رحم کو کرایہ پر یا عاریت پر لینے کی وجہ سے ناجائز ہے یا شوہر کا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھتے وقت ستر کا اور پردے کا خیال نہ کرناوغیرہ۔ اس لئے اولاد کے حصول کے لئے مصنوعی طریقے کو اختیار کرنا جائز نہیں۔

حدیث شریف میں ہے: لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماءه زرع غيره (سنن أبي داود ت الأرنؤوط، 3/ 487)

ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حلال نہیں کسی آدمی کے لئے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے کہ اس کا پانی کسی دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرے‘‘۔

عن الحسن، قال: لا يعار الفرج. (مصنف ابن أبي شيبة، 4/ 13) 

ترجمہ: ’’حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرمگاہ کو عاریت پر لینا جائز نہیں‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4344 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل