لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

ذیل میں سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی میں جو فرق بیان کیا گیا ہے، اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ کیا یہ درست ہے؟

’’سنتِ مؤکدہ و غیرمؤکدہ کی ادائیگی میں فرق یہ ہے کہ اگر نمازی چار رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کر رہا ہے تو دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد پورا پڑھنے کے بعد اور درودِ ابراہیمی سے قبل کھڑا ہوجائے۔ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ ملاکر معمول کے مطابق قعدہ اخیرہ میں تشہد، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔ جبکہ سنتِ غیر مؤکدہ کی ادائیگی کے دوران دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھے پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ و تسمیہ پڑھے۔ بقیہ نماز مؤکدہ سنتوں کی طرح ادا کریں گے۔‘‘ 

الجواب باسم ملهم الصواب

سنت مؤکدہ فرض  نمازکی طرح ہے اور سنت غیر مؤکدہ نفل نماز کی طرح ہے اس لئے چار رکعت سنت مؤکدہ پڑھتے وقت پہلے قعدہ میں التحیات کے بعد درود شریف پڑھنا اسی طرح تیسری رکعت میں کھڑے ہوکر ثناء پڑھنا درست نہیں۔ جبکہ سنت غیرمؤکدہ کے پہلے قعدے میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنا اسی طرح تیسری رکعت میں کھڑے ہو کر ثناء پڑھنا مستحب ہے جس طرح نفل نماز میں پڑھنا مستحب ہے۔ سوال میں بیان کردہ طریقہ کار درست ہے لیکن مذکورہ طریقہ پر سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی مستحب ہے لازم نہیں اگر کوئی عام طریقے کے مطابق  سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی کرے یعنی قعدہ اولی میں التحیات کے بعد درود پڑھے بغیر کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت  میں ثناء پڑھے بغیر فاتحہ پڑھے تب بھی نماز ہو جائے گی، کوئی گناہ نہ ہوگا۔

(في السنن الرواتب لا يصلي ولا يستفتح) تقدم في باب الوتر (قوله في السنن الرواتب) وهي ثلاثة رباعية الظهر، ورباعية الجمعة القبلية والبعدية، وهذا هو الأصح لأنها تشبه الفرائض. واحترز به عن الرباعيات المستحبات والنوافل فإنه يصلي علی النبي – صلی الله عليه وسلم – في القعدة الأولی ثم يقرأ دعاء الاستفتاح أفاده ط (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/ 732)

أما إذا كانت سنة أو نفلا فيبتدئ كما ابتدأ في الركعة الأولی، يعني يأتي بالثناء والتعوذ لأن كل شفع صلاة علی حدة اهـ الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 2/ 16)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4538 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل