لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان / رجسٹر
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023

 دو مختصر سوالات درپیش ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ 

1۔ اگر کسی نے کہیں کمیٹی ڈالی اور اپنا نمبر کسی دوسرے ممبر کو جس کا نمبر بعد میں آنا تھا، کچھ پیسوں کے عوض فروخت کر دیا، تو کیا کمیٹی فروخت کرنے کا عمل جائز ہے؟ اور اگر کسی کو جلدی کمیٹی کی اشد ضرورت ہے تو کیا وہ کمیٹی کچھ پیسوں کے عوض خرید سکتا ہے؟ 

2۔ دوسرا یہ کہ شادی بیاہ یا مکان کی تعمیر کے معاملات میں بینک سے قرضہ لینا جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ صورت مسئولہ میں نمبر فروخت کرنے کا معاملہ اگر کمیٹی کھل جانے اور رقم حاصل ہو جانے کے بعد ہو رہا ہے تو یہ در حقیقت رقم کی خرید و فروخت ہے کہ جس میں پہلا ممبر اپنی حاصل شدہ رقم کو دوسرے ممبر کے ہاتھ زائد رقم کے بدلے فروخت کر رہا ہےجو کہ سودی معاملہ ہونے کی بنیاد پر ناجائز اور حرام ہے اور اگر یہ معاملہ کمیٹی کھلنے سے پہلے ہو رہا ہے تو یہ ایک حق مجرد کی بیع ہے جو کہ ناجائز ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اپنا نمبر کسی دوسرے کو دے کر اس کے عوض میں رقم وصول کرنا جائز نہیں۔ البتہ بلا عوض اپنا نمبر دوسرے ممبر کو دے کر تعاون کرنا جائز ہے۔

2۔ بینک سے سودی قرضہ لینا جائز نہیں، اگر کوئی بینک بلا سود قرضہ فراہم کرے یا جائز مرابحہ کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ بینک سے کسی بھی قسم کے تعاون سے بچا جائے۔

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 4/ 518)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4527 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


لرننگ پورٹل