لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

پورے قران میں ایک بار یہ آیت ہے، سورۃ الاحزاب میں ہے: ان الله وملائکته یصلون علی النبی یا أیها الذین امنوا صلوا علیه وسلموا تسلیما. اس کے حکم سے مؤمنین نماز تک میں درود و سلام پڑھتے ہیں ’’علی محمد وآل محمد‘‘ نماز سے باہر’’وعلی اصحابه‘‘ کہتے ہیں، مگر نماز میں نہیں کہتے۔

پورے قران میں 5 بار ’’رضی اللہ عنہ‘‘ آیا ہے۔ مگر ایک بار بھی یہ حکم نہیں فرمایا کہ تم بھی کہو’’رضی اللہ عنہ‘‘، دوسری بات یہ کہ پانچوں جگہوں پر’’رضی اللہ عنہ‘‘ مومنین کیلئے آیا ہے۔ ایک بار بھی"اصحاب"کے کلمہ کے ذکر کے ساتھ نہیں ہے۔ سورۃ الفتح میں باوجود یہ کہ"صحابہ" بیعت کر رہے تھے مگر "عن الاصحاب" نہیں فرمایا۔ بلکہ "عن المؤمنین" فرمایا۔ میری نظر سے کوئی ایسی آیت نہیں گزری جس میں اللہ تعالی نے درود کی طرح "صحابہ" کےلیے’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہنے کا امت کو یا غیر’’صحابہ‘‘کو حکم فرمایا ہو۔ آپ کے علم میں ایسی آیت ہو تو میری ضرور رہنمائی کریں۔

اور میں جاننا چاہتی ہوں کہ  "محمد وآل محمد"  پر درود وسلام تو ہم اس آیت میں حکم کی وجہ سے پڑھتے ہیں۔ مگر’’صحابہ‘‘کے نام کے ساتھ کس آیت کے حکم سے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ پڑھتے ہیں؟

 یہ ایک شیعہ مبلغہ کے سوالات ہیں، وہ ہمیں کلاسز میں بھی پریشان کرتی ہیں۔ اب میسجز کے ذریعے کام کر رہی ہیں، جب بھی دلیل سے جواب دیں تو ان کے پاس نیا سوال ہوتا ہے۔ آپ مدلل جواب بتادیجئے۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

مفسرین کے نزدیک مؤمنین کے لفظ کے اولین مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں  ۔ اللہ تعالی نے جہاں بھی مؤمنین کی صفات بیان فرمائیں اور جن جن القابات سے مؤمنین کونوازاور جن جن انعامات کا مؤمنین کے لئے وعدہ فرمایا اس کے سب سے زیادہ مستحق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ لہذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی رضی اللہ عنہم ہیں اور صحابہ کرام ہی السابقون الاولون ہیں اور صحابہ کرام ہی تواصو بالحق کےمصداق ہیں۔ غرض یہ کہ جتنی صفات اللہ تعالی نے مؤمنین کی ذکر فرمائیں ان سے مراد صحابہ کرام ہی ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے ۔

قال ابن عباس – رضي الله عنهما – أَراد بصالح المؤمنين أَبا بكر وعمر – رضي الله عنهما – وبه قال عكرمة ومقاتل وهو اللائق بتوسطه بين جبريل والملائكة – عليهم السلام – وقيل: أريد به من بريء من النفاق، وقيل الصحابة (التفسير الوسيط – مجمع البحوث، 10/ 1486)

المسألة الثانية: اختلفوا في أن المدح الحاصل في هذه الآية هل يتناول جميع الصحابة أم يتناول بعضهم؟

فقال قوم: إنه يتناول الذين سبقوا في الهجرة والنصرة، وعلى هذا فهو لا يتناول إلا قدماء الصحابة، لأن كلمة (من) تفيد التبعيض، ومنهم من قال: بل يتناول جميع الصحابة، لأن جملة الصحابة موصوفون بكونهم سابقين أولين بالنسبة إلى سائر المسلمين، وكلمة (من) في قوله: من المهاجرين والأنصار ليست للتبعيض، بل للتبيين، أي والسابقون الأولون الموصوفون بوصف كونهم مهاجرين وأنصارا۔ (تفسير الرازي/ مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير، 16/ 129)

وهذه الطائفة هم أكابر الصحابة كالخلفاء الأربعة وغيرهم، فإنهم كانوا مبالغين في الصبر على شدائد الدين والرحمة على الخلق (تفسير الرازي/ مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير، 31/ 171)

مفسرین کی تفاسیر کی روشنی میں جب قرآن کریم میں رضی اللہ عنہ کا لفظ اصلا صحابہ کرام کے لئے استعمال ہوا ہے نیز نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کے بے شمار فضائل بیان فرما کر ان سے محبت اور عقیدت رکھنے کا حکم فرمایا اس لئے فقہاء کرام نے صحابہ کرام کے ساتھ رضی اللہ عنہم کا جملہ کہنے کو مستحب قرار دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں صرف نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم ہے لیکن نبی کریم ﷺ کے سکھائے ہوئے درود کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کی آل  پر بھی درود پڑھا جاتا ہے۔ 

لاتسبوا أحدا من أصحابي، فإن أحدکم لو أنفق مثل أحد ذھبا ما أدرک مد أحدھم ولانصیفہ. (مسلم، حدیث:۲۵۴۱) 

ترجمہ: ’’میرے اصحاب میں سے کسی کو گالی مت دو، کیونکہ تم میں سے کوئی بھی شخص اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی صدقہ کردے تو (اس کا ثواب) ان کے ایک مُد یا آدھے مُد (تھوڑے سے) صدقے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا‘‘۔

النجوم أمنۃ للسماء، فإذا ذھبت النجوم أتی السماء ما توعد وأنا أمنۃ لأصحابي، فإذا ذھبت أتی أصحابي ما یوعدون وأصحابي أمنۃ لأمتي، فإذا ذھب أصحابي أتی أمتي ما یوعدون. (صحیح مسلم، حدیث:۲۵۳۱) 

ترجمہ: ’’ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا۔ میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو ان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا۔ میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آ پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے‘‘۔

ثم الأولى أن يدعو للصحابة بالرضا فيقول رضي الله تعالى عنهم، وللتابعين بالرحمة فيقول: رحمهم الله تعالى، ولمن بعدهم بالمغفرة والتجاوز فيقول: غفر الله لهم وتجاوز عنهم. (الفتاوى الهندية، 6/ 446)

لہذا جب مومنین کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ٹھہرے تو اس کے بعد اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالی نے اصحاب کا لفظ کیوں ذکر نہیں فرمایا  یہ اعتراض فقط صحابہ کرام کے ساتھ بغض اور عناد کی نشاندہی کرتا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (مسند أحمد، 34/ 169)

 ترجمہ: ’’میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا) نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی، پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کی گرفت کر لے‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4523 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل