لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

نماز میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ پھر كم از كم تین قرآنی آیات، ركوع كے كلمات، سجدہ كے كلمات اور قعدہ كے كلمات، پھر آخرمیں دائیں بائیں سلام پھیرنا۔ ان تمام كلمات كو اپنے اپنے مقام پر پڑھنے اور اسی ترتیب كے ساتھ پڑھنے كا بیان احادیث صحاح ستہ سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو برائے مہربانی ان احادیث كے حوالہ جات دے دیں۔ جزاك اللہ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی شرعی مسئلہ کے ثبوت کےلیے ضروری نہیں کہ وہ حدیث ہی سے ثابت ہو، بلکہ قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس ان میں سے کسی ایک سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اور کسی مسئلہ کے حدیث سے ثابت ہونے کی صورت میں ضروری نہیں کہ وہ حدیث کی مشہور کتب ستہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) سے ثابت ہو۔ بلکہ ان کے علاوہ بھی حدیث کی معتبر کتب موجود ہیں، جن سے احادیث اور روایات کو لیا جاتا ہے۔

جہاں تک نماز کی ہیئت، ادائیگی کے طریقہ کار اور ترتیب کی بات ہے تو سنن ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو نماز کا طریقہ سمجھاتے ہوئے فرمایا: إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا. (سنن الترمذي، ابواب الصلاة، باب ماجاء في صفة الصلاة)  

ترجمہ: جب آپ نماز پڑھنے کےلیے کھڑے ہوں تو تکبیر (تحریمہ) کہیں، پھر جتنا ہوسکے قرآن کریم کی قرأت کرلیں، پھر اس کے بعد اطمینان کے ساتھ رکوع کریں، پھر رکوع سے اطمینان کے ساتھ کھڑے ہوں، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کریں، پھر  اطمینان کے ساتھ بیٹھیں، اس طرح (اطمینان کے ساتھ) اپنی نماز پوری کریں۔ 

باقی سوال میں جن کلمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کی احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں:  

 ثناء: نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھی جاتی ہے۔ جس کے الفاظ مختلف کتب احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَی جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» (سنن ابن ماجة، کتاب اقامة الصلاة والسنة فیها، باب افتتاح الصلاة)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو (ثناء یعنی) سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَی جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. پڑھتے۔

تعوذ: تعوذ یعنی أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا قرأتِ قرآن  کے آداب میں سے ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ». (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصلاة، باب متى يستعيذ) 

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ قرأت سے قبل أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ پڑھ لیا کرتے تھے۔ 

تسمیہ: نماز کے شروع میں قرأت سے پہلے  رسول اللہ ﷺ بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلاَتَهُ بِ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}. (سنن الترمذي، ابواب الصلاة، باب من رأی الجهر ببسم الله الرحمن الرحيم) 

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی نماز بسم الله الرحمن الرحيم سے شروع فرمایا کرتے تھے۔ 

سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ سورت ملانا: سنن ابی داود میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت منقول ہے: عن عُبَادةَ بن الصامت، يَبلُغ به النبيَّ – صلی الله عليه وسلم -قال: «لا صَلاةَ لمن لم يَقرَأ بفاتحةِ الكتابِ فصاعِداً». (سنن ابي داود، كتاب الصلاة، باب من ترك القراءة في صلاته)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ (سورت یا آیات )نہ پڑھے۔ 

رکوع کی تسبیحات: رکوع کی تسبیح سبحان ربی العظیم ہے، جسے کم از کم تین دفعہ پڑھنا مسنون ہے۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ، فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. (سنن الترمذي، ابواب الصلاة، باب ماجاء في التسبيح في الركوع والسجود)

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے اور رکوع میں تین مرتبہ سبحان ربی العظیم پڑھ لے تو اس کا رکوع مکمل ہوجائے گا اور یہ (تین دفعہ تسبیح پڑھنا) ادنی مقدار ہے۔ 

سجدہ کی تسبیحات: سجدہ میں سبحان ربی الأعلی پڑھنا مسنون ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: وَإِذَا سَجَدَ، فَقَالَ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. سنن الترمذي، ابواب الصلاة، باب ماجاء في التسبيح في الركوع والسجود) 

 ترجمہ: اور جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے اور سجدہ میں تین مرتبہ سبحان ربی الأعلی پڑھ لے تو اس کا سجدہ مکمل ہوجائے گا اور یہ (تین دفعہ تسبیح پڑھنا) ادنی مقدار ہے۔

قعدہ میں  پڑھے جانے والے کلمات: قعدہ میں پہلے تشہّد پڑھا جاتا ہے۔ جس کےالفاظ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سنن ترمذی کی روایت میں بیان فرماتے ہیں: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. (سنن الترمذي، ابوب الصلاة، باب ماجاء في التشهد)

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے آخر میں  قعدہ میں بیٹھیں تو (تشہد) پڑھیں، (جس کے الفاظ یہ ہیں:) التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.  

درود شریف: تشہد کے بعد درود شریف پڑھا جاتا ہے، مستدرک حاکم میں ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا، وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ، وَبَارَكْتَ، وَتَرَحَّمْتَ، عَلَی إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ. (المستدرك علی الصحيحين للحاكم، كتاب الطهارة، حديث عبد الرحمن بن مهدي)

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں تشہد پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ یہ (درود شریف) پڑھے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا، وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ، وَبَارَكْتَ، وَتَرَحَّمْتَ، عَلَی إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ.

عام طور پر نماز میں درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے، جس کے  الفاظ صحیح بخاری میں مروی ہیں، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَی مُحَمَّدٍ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد. (صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب يزفون النسلان في المشي)

ترجمہ: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر اور اہل بیت پر کیسے درود بھیجیں؟ کیونکہ سلام کا طریقہ تو اللہ نے ہمیں بتلا دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (اس طرح) کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَی مُحَمَّدٍ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد.

درودکے بعد پڑھی جانے والی دعا: درود شریف کے بعد کوئی بھی مأثور دعا پڑھی جاسکتی ہے، دعاء ابراہیمی یعنی {رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ (40) رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ} بھی پڑھی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ ایک اور دعا بھی منقول ہے جو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سکھائی تھی۔ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي قَالَ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ. (صحيح البخاري، كتاب صلاة الجماعة والإمامة، باب الدعاء قبل السلام)

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھادیں جو میں نماز مانگوں تو آپ نے فرمایا کہ کہو: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.

دائیں بائیں سلام پھیرنا: دعا سے فارغ ہونے  کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے ہوئے دائیں بائیں سلام پھیرکر نماز ختم کرنی چاہیے۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. (سنن الترمذي، ابواب الصلاة، باب ماجاء في التسليم في الصلاة)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے ہوئے دائیں بائیں سلام پھیرتے تھے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل