لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس حدیث کے صحیح الفاظ کیا ہیں؟ یہ حدیث کس کتاب میں ہے؟ نیز اس کی صحت کے بارے میں بھی بتادیں۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں مذکور الفاظ کسی کتاب میں نہیں مل سکے، البتہ کتبِ حدیث میں اس مضمون کی اور بہت سی روایات منقول ہیں، جن میں اس بات کی صراحت ہے کہ جس طرح ماں اپنے بچے پر مہربان ہوتی ہے اللہ تعالی ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہیں۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 

قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللهِ ﷺ بِسَبْيٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ، تَبْتَغِي، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ، أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» قُلْنَا: لَا، وَاللهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَی أَنْ لَا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا». (صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله تعالی)

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس کچھ قیدی آئے، قیدیوں میں ایک عورت تھی جو کسی بچے کی تلاش میں تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا، اس نے اسے جلدی سے اپنے پیٹ کے ساتھ لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں، بخدا! جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنا بچہ آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ جتنا یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہے،  اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے۔

اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:

«جَعَلَ اللهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ، حَتَّی تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا، خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ». (صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله)

ترجمہ: اللہ تعالی نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین میں اتارا، اسی ایک حصے کی بدولت مخلوق ایک دوسرے پر رحم کھاتی ہے، یہاں تک کہ جانور اپنے بچے کو تکلیف سے بچانے کی خاطر اس پر سے اپنا پاؤں ہٹاتا ہے (تو یہ بھی اسی رحمت کے ایک حصے کا اثر ہے)۔

«إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَی وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». (صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله تعالی)

ترجمہ: اللہ تعالی کے پاس سو رحمتیں ہیں، ان میں سے اللہ نے جن وانس اور جانوروں میں صرف ایک رحمت کو نازل فرمایا، اسی ایک رحمت کی بدولت ساری مخلوقات ایک دوسرے پر مہربان ہوتی ہیں اور رحم کھاتی ہیں اور وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربان ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ننانوے رحمتیں اللہ نے روک رکھی ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی اپنے بندوں پر فرمائیں گے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4611 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل