لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

درج ذیل حدیث کی سندی حیثیت بیان فرمادیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا، وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَاسْتَجِدُّوا، وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّيْلِ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمُ الْغِيلَانُ، فَبَادِرُوا بِالْأَذَانِ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَی جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَی الْحَيَّاتِ، وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ، فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ» 

ترجمہ: ’’حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرواور اس کے بغیر منزل سے آگے نہ بڑھا کرو، اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گزرجایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو، کیوں کہ رات کے سفر میں زمین کا فاصلہ کم کر دیا جاتا ہے، سفر کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے۔ اور اگر بھوت جنات کا سامنا ہو تو اذان دیا کرو، نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو، کیوں کہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور قضائے حاجت بھی نہ کیا کرو، کیوں کہ یہ لعنت کا سبب ہے‘‘۔

الجواب باسم ملهم الصواب

یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے۔ کچھ روایات کی سند میں انقطاع ہے، اور کچھ روایات کی سند میں ضعف ہے۔ البتہ اس روایت کا مرسلاً مروی ہونا راجح ہے۔

پہلی سند: هشام بن حسان، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: إذا سرتم في الخصب، فأمكنوا الركاب أسنانها، ولا تجاوزوا المنازل، وإذا سرتم في الجدب، فاستجدوا، وعليكم بالدلج، فإن الأرض تطوی بالليل، وإذا تغولت لكم الغيلان، فبادروا بالأذان، وإياكم والصلاة علی جواد الطريق، والنزول عليها، فإنها مأوی الحيات، والسباع، وقضاء الحاجة، فإنها الملاعن. مسند أحمد ط الرسالة (22/ 178)، السنن الكبری للنسائي (9/ 349)، مسند أبي يعلی الموصلي (4/ 153)

مذکورہ سند میں حسن بصری رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت فرما رہے ہیں اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے البتہ بہت سے محدثین نے عن حسن عن جابر سند کو حسن کہا ہے۔

إن العلم إن كان في اللسان لا يكون إلا حجة علی حامله ووبالا عليه. (ش والحكيم عن الحسن مرسلاً، خط (1) عنه) عن الحسن (عن جابر) سكت عليه المصنف، وقال الحافظ المنذري: إسناده صحيح، ومثله قال الحافظ العراقي. (التنوير شرح الجامع الصغير، 7/ 403)

(هـ عن جابر) بن عبد الله سكت عليه المصنف فلم يشر إليه بعلامة الضعف كعادته في الضعيف وكأنه اغتر بقول المنذري رواته ثقات لكن قال الحافظ مغلطاي في شرح ابن ماجه: هذا الحديث معلل بأمرين: الأول ضعف عمرو بن أبي سلمة أحد رجاله فإن يحيی ضعفه وابن معين قال لا يحتج به والثاني أن فيه انقطاعا لكن رواه البزار مختصرا بسند علی شرط مسلم اه. وقال الولي العراقي: فيه سالم الخياط وفيه خلف واختلف في سماع الحسن عن جابر ورواه الطبراني أيضا قال الهيثمي: ورجاله رجال الصحيح. (فيض القدير، 3/ 123)

وأخرجه الخطيب في تاريخه، عن الحسن، عن جابر مرفوعاً بإسناد حسن. (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 356)

وقال البزار: روی الحسن عن جابر بن عبد الله أحاديث، ولم يسمع منه، وقال ابن أبي حاتم: سألت أبي سمع الحسن عن جابر؟ قال: ما أری، ولكن هشام بن حسان يقول عن الحسن ثنا جابر، وأنا أنكر هذا، إنما الحسن عن جابر كتاب، مع أنه أدرك جابراً – انتهی. قلت: وذلك لا يقتضي الانقطاع. (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، 5/ 19)

دوسری سند: عن ابن جريج قال: حُدثت عن سعد بن أبي وقاص قال: سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول: إذا تغولت لكم الغيلان الی آخرہ.

اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابن جریج اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔ لہذا یہ سند معتبر نہیں۔

مَاتَ سعد بن أبي وَقاص سنة خمس وَخمسين. (تاريخ مولد العلماء ووفياتهم 1/ 159)

قَالَ الْهَيْثَم وَفِي سنة خمسين وَمِائَة مَاتَ ابْن جريج وَأَبُو حنيفَة. (تاريخ مولد العلماء ووفياتهم 1/ 352)

تیسری سند: عمر بن صبح عن مقاتل بن حيان عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی الله عليه وسلم: السفر قطعة من العذاب…الی آخرہ. (الكامل في ضعفاء الرجال – الفكر 5/ 25)

 اس سند میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے راوی عمر بن صبح کو ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے یہ سند بھی معتبر نہیں۔

عمر بن صبح: ليس بثقة ولا مأمون. قال ابن حبان: كان ممن يضع الحديث. ميزان الاعتدال (3/ 206)

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَخْصَبْتُمْ فَأَمْكِنُوا الدَّوَابِّ . . . الی آخره. مصنف عبد الرزاق الصنعاني (5/ 160)

یہ سند درست ہے، البتہ حسن بصری رحمہ اللہ  نے یہ روایت مرسلاً بیان فرمائی ہے مرفوعاً نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس روایت كےمرفوع میں محدثین کا کلام ہے، البتہ یہ روایت مرسلاً درست اور معتبر ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4406 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل