لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

اگر كسی انسان نے قرآن پر ہاتھ ركھ كر قسم اٹھائی كہ وہ آئندہ یہ كام نہیں كرے گا اور چاہے نہ چاہے اس سے وہ كام دوبارہ ہوجائے یا وہ اپنی یہ قسم پوری نہ كرسكے اور اس سے دستبردار ہونا چاہے تو كیا كرے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورتِ مسئولہ میں اگر قرآن کریم پر ہاتھ رکھنے کے ساتھ قسم کےالفاظ میں سے کوئی لفظ  مثلا ”اللہ کی قسم، قرآن کی قسم“ وغیرہ بھی زبان سے ادا کیے اور كہا كہ میں آئندہ یہ كام نہیں كروں گا، تو قسم منعقد ہوگئی، لہذا اگر وہ كام دوبارہ كرے یانہ چاہتے ہوئے سرزد ہوجائے، تو قسم  پوری نہ كرنے كی وجہ سے كفارہ لازم آئے گا، اور قسم كا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دووقت کاکھانا پیٹ بھر کر کھلائے، یا دس مسکینوں کو درمیانے درجے کے کپڑے پہنائے، یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو پونے دو کلو گندم، یا اس کی قیمت دے، اگر ان میں سے کسی چیز کی استطاعت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے۔

(لا) يقسم (بغير الله تعالی كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا. وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف. وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا. وعند الثلاثة المصحف والقرآن وكلام الله يمين. زاد أحمد والنبي أيضا (الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۳/۷۱۳)

(قوله وقال العيني إلخ) عبارته: وعندي لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة ورغبة العوام في الحلف بالمصحف اهـ وأقره في النهر. وفيه نظر ظاهر إذ المصحف ليس صفة لله تعالی حتی يعتبر فيه العرف وإلا لكان الحلف بالنبي والكعبة يمينا لأنه متعارف، وكذا بحياة رأسك ونحوه ولم يقل به أحد. علی أن قول الحالف وحق الله ليس بيمين كما يأتي تحقيقه، وحق المصحف مثله بالأولی، وكذا وحق كلام الله لأن حقه تعظيمه والعمل به وذلك صفة العبد، نعم لو قال أقسم بما في هذا المصحف من كلام الله تعالی ينبغي أن يكون يمينا (الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۳/۷۱۳)

قال: "كفارة اليمين عتق رقبة يجزي فيها ما يجزي في الظهار وإن شاء كسا عشرة مساكين كل واحد ثوبا فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار" والأصل فيه قوله تعالی: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ} الآية وكلمة أو للتخيير فكان الواجب أحد الأشياء الثلاثة قال: "فإن لم يقدر علی أحد الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات" (الهداية في شرح بداية المبتدي (۲/ ۳۱۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4597 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل