لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

میرا سوال یہ ہے كہ میں بینك سے قرض لینا چاہتا ہوں، اور دوسرا سوال یہ كہ اگر میں بینك سے گاڑی لینا چاہوں، تو كیا بینك سے قرض یا گاڑی لینا جائز ہے؟ اس كے بارے كیا حكم ہے؟ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مروجہ سودی بینک جو مختلف کاموں کے لیے قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے، جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ لہذامذكورہ صورت میں بینك سے قرض لینا یا گاڑی لینا جائز نہیں، اس لیے آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ بینك سےسودی قرضہ وغیرہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا جائز متبادل راستہ اختیار کریں۔ 

مطلب : كل قرض جر نفعا حرام (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلی قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. (رد المحتار،٧/٤١٣)

قال ط: قلت: والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدارهم، وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعني المنع، والله تعالی أعلم اهـ. (قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار،۷/ ۴۱)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4614 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل