لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

’’ایک نماز ضائع کرنے سے دو کڑوڑ اٹھاسی لاکھ سال دوزخ میں جلنے کی سزا ہے اور قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال لمبا ہوگا۔‘‘ کیا یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

نماز اپنے وقت پر نہ پڑھنے کے حوالے سے جو روایت سوال میں ذکر کی گئی ہے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت کہیں نہیں مل سکی۔ البتہ ’’مجالس الابرار‘‘ نامی کتاب میں اسی مضمون کی ایک روایت منقول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: 

روي أنه عليه الصلاة والسلام قال: «من ترك الصلاة حتى مضى وقتها ثم قضى: عذب في النار حقبا. والحقب: ثمانون سنة، والسنة: ثلاثمائة وستون يوما، كل يوم كان مقداره ألف سنة». (مجالس الأبرار، المجلس الحادي والخمسون في بيان فرضية الصلاة بالكتاب والسنة…)

 ترجمہ: حضور ﷺ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص نماز کو قضا کردے، گو وہ بعد میں پڑھ بھی لے، پھر بھی اپنے وقت پر نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک حُقب جہنم میں جلے گا۔ اور حقب کی مقدار اسی برس کی ہوتی ہے، اور ایک برس تین سو ساٹھ دن کا، اور قیامت کا ایک دن ایک ہزار برس کے برابر ہوگا۔ (اس حساب سے ایک حقب کی مقدار دو کروڑ اٹھاسی لاکھ برس ہوئی)

’’مجالس الابرار‘‘ نامی کتاب اور اس کے مصنف حضرت شیخ احمدبن محمد الرومی الحنفی رحمہ اللہ کی حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ سمیت مختلف علماء نے تعریف وتوصیف کی ہے۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کے اہتمام سے اس کتاب کا ’’نفائس الازہار‘‘ کے نام سے ترجمہ بھی شائع ہوا ہے، جس کے آغاز میں مفتی کفایت اللہ صاحب نے حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے درج ذیل تعریفی کلمات کا ترجمہ بھی ذکر فرمایا ہے۔ مجالس الابرار کے مقدمہ میں ہے: 

وقد وصف هذا الكتاب وتحسنه سراج الهند الشيخ المحدث الإمام الشريف عبد العزيز الدهلوي المتوفى 1239ه حيث قال: «كتاب مجالس الابرار في علم الوعظ والنصيحة يتضمن فوائد كثيرة من باب اسرار الشرائع ومن ابواب الفقه ومن ابواب السلوك ومن ابواب رد البدع والعادات الشنيعة، لا علم لنا بحال مصنفه الا مايكشف عنه هذا التصنيف من تدينه وتورعه وتفننه في العلوم الشرعية.» 

ترجمہ: سراج الہند، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس کتاب کی توصیف وتحسین فرمائی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: کتاب ’’مجالس الابرار‘‘ علمِ وعظ ونصیحت میں اسرارِ شریعت وابوابِ فقہ ورد بدعات وعاداتِ شنیعہ کے فوائدِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔ ہمیں اس کے مصنف کا اس سے زیادہ حال معلوم نہیں جتنا کہ اس تصنیف سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس کے مصنف ایک عالمِ متدین، متورع اور علومِ شرعیہ کے فنون مختلفہ پر حاوی تھے۔

لیکن چونکہ مجالس الابرار میں بھی ذکر کردہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں مل سکی، نیز خود مجالس الابرار میں بھی ’’رُوِیَ‘‘ مجہول کے صیغے کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے جوکہ ضعف کی طرف اشارہ ہے اور کوئی سند بھی مذکور نہیں ہے۔ لہذا مجالس الابرار میں ذکر کردہ روایت کو حدیث کہہ کر بیان کرنا درست نہیں، اس سے اجتناب کیا جائے۔ 

سوال کا دوسرا حصہ کہ قیامت کا ایک دن  پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، یہ بات قرآن کریم سے ثا بت ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: 

{تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ}

ترجمہ: فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ 

اس آیت میں قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال کا بتایا گیا ہے، جبکہ قرآن کریم میں دوسرے مقام پر قیامت کا ایک دن ایک ہزار سال کا بھی بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: 

{يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ}

ترجمہ: وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام وہ خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایسے دن میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔ 

قیامت کے دن کی طوالت مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوگی۔ کسی کےلیے وہ دن ہزار سال کے برابر ہوگا اور کسی کےلیے وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اور مؤمنین کےلیے اس دن کی طوالت فرض نماز کی ادائیگی کے وقت کے برابر ہوگی۔ جیساکہ حدیث شریف میں ہے: 

عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: {يوم كان مقداره خمسين ألف سنة} فقيل: ما أطول هذا اليوم؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "والذي نفسي بيده إنه ليخفف على المؤمن حتى يكون أخف عليه من صلاة مكتوبة يصليها في الدنيا". (صحيح ابن حبان، كتاب التاريخ، باب إخباره ﷺ عن البعث واحوال الناس في ذلك اليوم)

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ آپ سے پوچھا گیا: یہ تو بہت طویل دن ہوگا! تو آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ دن ایمان والے شخص پر ہلکا کردیا جائے گا، یہاں تک کہ ایمان والے شخص کے لیے اس دن کی مقدار ایک فرض نماز کی ادائیگی کے وقت کے برابر ہوگی۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4615 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل