لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

عرض یہ ہے كہ سالگرہ كے تحائف قبول كرنا كیساہے؟ ہم نہیں مناتے، لیكن اگر كوئی ہمیں تحفہ دے، توكیا اس كا لینا درست ہے؟ برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملهم الصواب

سالگرہ منانے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ دورِ حاضر کی گھڑی ہوئی رسم ہے، اور اس موقعے پر تحفے تحائف دینے كی رسم بھی غیر اسلامی رسم ہے، مسلمانوں نے كفار کی دیکھا دیکھی ان كے طور طریقے اور رسومات کواپنانا شروع کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «من تشبه بقوم فهو منهم» (رواه أحمد وأبو داود مشكاة المصابيح،۲ / ۱۲۴۶)

ترجمہ: ”جو  شخص كسی قوم كی مشابہت اختیا ركرے گا، وہ انہیں میں سے ہوگا“۔ تاہم ان رسومات میں بلاشبہ کفار کے ساتھ مشابہت ہے، ان سے اجتناب ضروری ہے۔ 

لہذامذكورہ صورت میں سالگرہ كی رسم کی مناسبت سے جوتحائف یا كیك وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں، چاہے وہ سالگرہ کے دن ہوں یا بعد میں  انہیں قبول نہ کریں، بلكہ اچھے طریقے سے تحفہ قبول کرنے سے معذرت کر لیں۔ لیكن اگر معذرت كرنے كی صورت میں فتنے كا خوف ہے اور ہدیہ دینے والے كی كمائی حلال ہے تو ہدیہ قبول كرسكتے ہیں، اسی طرح اگر كوئی شخص اپنی سالگرہ كا كیك لاكر كھلائے تو اس كا بھی یہی حكم ہے۔ 

(قال: قال رسول الله – صلی الله عليه وسلم – (من تشبه بقوم): أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب (مرقاة المفاتيح،۷/ ۲۷۸۲)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4616 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل