لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

جس بچے كی عمر چودہ سال سے كچھ ماہ زیادہ ہو اور وہ پڑھ بھی رہا ہو، لیكن اس كے ماں باپ كی حیثیت كے بارے میں معلوم نہ ہو كہ  ان كے پاس كوئی زیور وغیرہ ہے یا نہیں، تو ایسے بچے كو زکوٰۃ دی جاسكتی ہے؟ اور اگر دی جاسكتی ہے تو كس عمر میں دی جائے، تاكہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے كرسكے؟ اس مسئلےمیں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا زکوٰۃ کے معاملے میں وہ اپنے والد کے تابع ہوتا ہے، بالغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچے كی عمر بارہ سال پوری ہوجائے اور اس كے بعد اس كو احتلام ہوجائے، یا اس كی عمر چاند كے حساب سے پندرہ سال مكمل ہوجائے تو شرعاً وہ بالغ شمار ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر یہ بچہ بالغ اور مستحق ِ زکوۃ ہے، خواہ اس کا والد صاحبِ نصاب ہو یا نہ ہو، تو وہ تعلیمی اخراجات اور دیگر ضروریات کے لیے کسی سے زکوٰۃ کی رقم لے سکتا ہے، بالخصوص جبکہ اس کے والدین تعلیمی خرچہ اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اور اگر بچہ ابھی تک نابالغ ہے تو دیکھا جائے گا کہ اگر اس کا والد مالدار ہو توبالغ ہونے تك اس كو زكوة نہیں دی جاسكتی، اگر والد مالدار نہ ہو تو اس كو زكوة دی جاسكتی ہے۔

لا يجوز دفع الزكاة إلی من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية وهي مسكنه وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه ومركبه وسلاحه ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي (الفتاوی الهندية ،۱/۱۸۹)

ولا يجوز دفعها إلی ولد الغني الصغير كذا في التبيين. ولو كان كبيرا فقيرا جاز، ويدفع إلی امرأة غني إذا كانت فقيرة، وكذا إلی البنت الكبيرة إذا كان أبوها غنيا؛ لأن قدر النفقة لا يغنيها وبغنی الأب والزوج لا تعد غنية كذا في الكافي.ويجوز صرفها إلی الأب المعسر، وإن كان ابنه موسرا كذا في شرح الطحاوي.ويجوز صرفها إلی من لا يحل له السؤال إذا لم يملك نصابا، وإن كانت له كتب تساوي مائتي درهم إلا أنه يحتاج إليها للتدريس أو التحفظ أو التصحيح يجوز صرف الزكاة إليه كذا في فتاوی قاضي خان. سواء كانت فقها أو حديثا أو أدبا هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوی الهندية ،۱/۱۸۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل