لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

میری والدہ نے میری پھوپو کو، مجھے اور میرے بیٹے کو دودھ پلایا ہے، مجھے اور میری پھوپو کو تقریباً ۱۹ سال قبل اور پھر ۱۹ سال بعد میرے بیٹے کو دودھ پلایاہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے بیٹے (جس نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے) کی شادی میری پھوپو (جنہوں نے اپنی بھابھی کا دودھ پیا ہے) کی بیٹی سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں سائل کے بیٹے اور سائل کی پھوپھو کے درمیان رضاعی بہن بھائی کا رشتہ ہے اور جس طرح  نسبی بہن کی بیٹی سے نکاح ناجائز ہے، اسی طرح رضاعی بہن کی بیٹی سے بھی نکاح نا جائز ہے۔  لہذا سائل کے بیٹے کا نکاح سائل کی پھوپھو کی بیٹی سے کرنا جائز نہیں۔

 (قوله ما يحرم من النسب) معناه أن الحرمة بسبب الرضاع معتبرة بحرمة النسب، فشمل زوجة الابن والأب من الرضاع لأنها حرام بسبب النسب فكذا بسبب الرضاع، وهو قول أكثر أهل العلم، كذا في المبسوط بحر. الدر المختار وحاشية ابن عابدين / رد المحتار، ۳/۲۱۳)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4623 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل