لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

تقریبا بیس سال پہلے میں نے اسٹیٹ لائف انشورنس كی پالیسی لی، لینے كی وجہ یہ تھی كہ میری پرائیوٹ نوكری تھی، جس میں كو ئی پینشن یا گریجوٹی نہیں تھی، تو میرا خیال یہ تھا كہ وقت كے ساتھ ساتھ بچت ہوتی رہے گی اور آخر میں ایك بڑی رقم بن جائے گی، تو استعمال میں آجائے گی۔

اور اسٹیٹ لائف كی پالیسی لیتے وقت میں نے اس كے بارے میں معلومات لی تھی، تو میرا علم یہ تھا كہ اگر اس میں فكس منافع ہو تو سود ہوتا ہے، ورنہ نہیں، اور اس وقت وہ فكس نہیں تھا، بلكہ متغیر تھا، اور نہ میں نے ان كو قرض دیا، بلكہ پیسے كاروبار میں انویسٹ كے لیے دیے، كیا یہ ركھنا صحیح ہے، یا اس کو ختم كردینا چاہیے، اگر رخصت كی كوئی صورت ہوجائے تو اچھی بات ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

محض منافع كی شرح مقرر ہوجانے سے كسی كاروبار كا جواز ثابت نہیں ہوتا، بلكہ كاروبار كے جائز ہونے كے لیے كچھ اور بھی شرعی قواعد اور تقاضے ہوتے ہیں، جن كا پورا كرنا ضروری ہوتا ہے، اور مروجہ انشورنس میں ان كی رعایت نہیں ركھی جاتی، كیونكہ انشورنس كمپنی كی طرف سے انشورنس كرانے والے كو بعض خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات كی تلافی كی یقین دہانی  كرائی جاتی ہے، اوركمپنی اس سے ایك متعینہ رقم قسط وار وصول كرتی ہے، اور ایك معینہ مدت كے بعد اسے یا اس كے پسماندگان كو حسبِ شرائط واپس كرتی ہے، اگر چہ كمپنی یہ کہتی ہو کہ یہ مضاربہ وغیرہ ہے، اور آپ کی رقم ہم اپنے كاروبار میں لگاتے ہیں اور اس کا نفع آپ کو دیتے ہیں، مگر حقیقت میں اُن سے کیا گیا معاہدہ  شرعاً نہ مضاربہ ہوتا ہے، نہ اجارہ، بلکہ قرض، سود اور جوئے پر مبنی معاملہ طے کیا جاتا ہے، اور كمپنی فیصد كے حساب سے مزید كچھ رقم بطورِ سود دیتی ہے، جس کی شرعاً کوئی اجازت نہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لئے اسٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسی لینا جائز نہیں تھا، لیکن لاعلمی میں آپ نے لے لی، اب آپ کے لیے حکم یہ ہے کہ معاملے کوختم کردیں۔ اس صورت میں کمپنی سے جو رقم وصول ہو، اس میں سے آپ کی جمع کردہ رقم کا استعمال آپ کے لیے حلال ہے، اس سے زائد رقم کا استعمال حلال نہیں، بلکہ زائد رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردینا لازم ہے۔

باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة، وشرعا: (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة. فكلها من الربا فيجب رد عين الربا قائما لا رد ضمانه، لانه يملك بالقبض. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،ص:۴۳۰)

(كل قرض جر نفعًا حرام)أي: إذا كان مشرطًا كماعلم مما نقله عن بحر، وعن الخلاصة، وفي الذخيرة:وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلی قول الكرخي لابـأس… ثم رأيت في جواهر الفتاوی!إذا كان مشروطًا صار قرضًا فيه منفعة وهو ربا، وإلا فلابأس به.(ردالمحتار، ٧/٤١٣) 

عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ، قال: نهی رسول الله صلی الله عليه وسلم عن بيع الغرر، وعن بيع الحصاة(سنن ابن ماجه (۲/ ۷۳۹) 

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه(رد المحتار ،۵/۹۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4604 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل