لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

كیا كھانا كھانے سے پہلے صرف بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے یا بسم اللہ الرحمن الرحیم پورا پڑھنا مسنون ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

كھانا كھانے سے پہلے  كی دعا میں بسم اللہ پڑھنے كے الفاظ امام ترمذی رحمہ اللہ نے سنن الترمذی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا كے حوالے سے روایت فرمائے ہیں چنانچہ حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی كھانا كھائے تو بسم اللہ كہے اور اگر شروع میں كہنا بھول جائے تو یاد آنے پركہے بسم اللہ فی اولہ وآخرہ۔ 

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: إذا أكل أحدكم طعاما فليقل: بسم الله، فإن نسي في أوله فليقل: بسم الله في أوله وآخره, وبهذا الإسناد عن عائشة قالت: كان النبي صلی الله عليه وسلم يأكل طعاما في ستة من أصحابه، فجاء أعرابي فأكله بلقمتين، فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم: أما إنه لو سمی لكفاكم. هذا حديث حسن صحيح.(سنن الترمذي ت بشار (۳/ ۳۵۲)

امام نووی رحمہ اللہ نےاپنی كتاب الاذكار میں امام شافعی رحمہ اللہ كے حوالے سے یہ بات جزم كے ساتھ لكھی ہے كہ بسم اللہ پوری پڑھنا ہی افضل ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: فاعلم أنَّ الأفضلَ أن يقولَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فإن قال: بِسْمِ اللهِ، كفاهُ وحصلَتِ السُّنّة، وسواء في هذا الجنب والحائض وغيرهما، وينبغي أن يُسمِّيَ كل واحد من الآكلين، فلو سمَّی واحدٌ منهم أجزأ عن الباقين، نصّ عليه الشافعي رضي اللَّه عنه. (الأذكار للنووي (ص: ۳۷۲)

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اسی كھانے سے پہلے بسم اللہ كے بارے میں امام ترمذی اور امام ابوداؤد رحمہم اللہ كے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث كے بارے میں فرمایا كہ اس بارے میں سب سے مضبوط سند یہ ہے۔ اور فرمايا كہ امام نووی رحمہ اللہ  نے اپنی كتاب الاذكار میں كھانے سے پہلے پوری بسم اللہ پڑھنے كے بار ے میں افضلیت كا قول نقل فرمایا لیكن اس بارے میں مجھےكوئی مضبوط دلیل نہیں ملی۔ البتہ اس بار ے میں علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نےعمدة القاری میں پوری بسم اللہ پڑھنے كو استحباب پر محمول فرمایا۔

علامہ انوشاہ كشمیری رحمہ اللہ نے فیض الباری میں اس پر بحث كرتے ہوئے فرمایا كہ مجموعی طورپر تو احادیث اس بات كا تقاضا كرتی ہیں كہ كھانا كھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب ہونا چاہئے، كیونكہ اس میں بہت بڑا نقصان یہ ہے كہ شیطان كھانے میں ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور بسم اللہ پڑھنے سے شامل نہیں ہوسكتا، لیكن جمہور علماء نےایسی احادیث سے بسم اللہ كے چھوڑنے پر تو تنبیہ فرمائی، لیكن كسی نے اس كے وجوب كا قول اختیار نہیں فرمایا، سوائے ایك  شاذ ونادر روایت كے جس میں  وجوب كا قول امام شافعی رحمہ اللہ كی طرف منسوب كیا گیا۔  

نیزعلامہ انورشاہ كشمیری رحمہ اللہ نے العرف الشذی میں اس بارے میں تحقیق كے ساتھ یہ بات فرمائی كہ  كھانے سے پہلے كی دعا میں صرف بسم اللہ پڑھنا ہی ثابت  ہے پوری بسم اللہ پڑھنا ثابت نہیں، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: اعلم أن الثابت بالأحاديث في التسمية بسم الله فقط. قوله: (فإن نسي في أوله إلخ) في بعض الأحاديث أنه لو لم يسم علی الطعام يشترك معه الشيطان وإذا قرأ التسمية في الوسط قاء الشيطان، ومدّ صاحب البحر هذا البحث إلی أن من ترك التسمية في أول الوضوء هل يفيد التسمية في وسط أم لا؟ ، والله أعلم وعلمه أتم.(العرف الشذي شرح سنن الترمذي (۳/۲۸۹)

خلاصہ كلام یہ ہے كہ كھانے سے پہلے صرف بسم اللہ پڑھنا احادیث صحیح سے ثابت ہے، اور پوری بسم اللہ پڑھنے كے بارے میں كوئی حدیث نہ مل سكی۔ تاہم چونكہ كھانے سے پہلے پوری بسم اللہ پڑھنے كے بارے میں جمہور محدثین كا اجماع ہے اس لیے بہتر یہی ہے كہ كھانے سے پہلے پوری بسم اللہ پڑھی جائے۔    

المراد بالتسمية علی الطعام قول بسم الله في ابتداء الأكل وأصرح ما ورد في صفة التسمية ما أخرجه أبو داود والترمذي من طريق أم كلثوم عن عائشة مرفوعا إذا أكل أحدكم طعاما فليقل بسم الله فإن نسي في أوله فليقل بسم الله في أوله وآخره وله شاهد من حديث أمية بن مخشي عند أبي داود والنسائي وأما قول النووي في أدب الأكل من الأذكار صفة التسمية من أهم ما ينبغي معرفته والأفضل أن يقول بسم الله الرحمن الرحيم فإن قال بسم الله كفاه وحصلت السنة فلم أر لما ادعاه من الأفضلية دليلا خاصا (فتح الباري لابن حجر (۹/ ۵۲۱)

(بَابُ: {التسْمِيَةِ عَلَی الطعَّامِ وَالأكْلِ بِالْيَمِينِ} )أَي: هَذَا بَاب فِي بَيَان التسيمة علی الطَّعَام، أَي: القَوْل باسم الله فِي ابْتِدَاء الْأكل وأصرح مَا ورد فِي صفة التَّسْمِيَة مَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ من طَرِيق أم كُلْثُوم عَن عَائِشَة، رَضِي الله تَعَالَی عَنْهَا مَرْفُوعا إِذا أكل أحدكُم الطَّعَام فَلْيقل: بِسم الله فَإِن نسي فِي أَوله فَلْيقل بِسم الله أَوله وَآخره، وَالْأَمر بِالتَّسْمِيَةِ عِنْد الْأكل مَحْمُول علی النّدب عِنْد الْجُمْهُور، وَحمله بَعضهم علی الْوُجُوب لظَاهِر الْأَمر، وَقَالَ النَّوَوِيّ: اسْتِحْبَاب التَّسْمِيَة فِي ابْتِدَاء الطَّعَام مجمع عَلَيْهِ، وَكَذَا يسْتَحبّ حمد الله فِي آخِره. قَالَ الْعلمَاء: يسْتَحبّ أَن يجْهر بالتسيمة لينبه غَيره فَإِن تَركهَا عَامِدًا أَو نَاسِيا أَو جَاهِلا أَو مكْرها أَو عَاجِزا لعَارض ثمَّ تمكن فِي أثْنَاء أكله يسْتَحبّ لَهُ أَن يُسَمِّي، وَتحصل التَّسْمِيَة بقوله: بِسم الله فَإِن اتبعها بالرحمان الرَّحِيم كَانَ حسنا، وَيُسمی كل وَاحِد من الآكلين. قوله باب التسمية علی الطعام والأكل باليمين)(عمدة القاري شرح صحيح البخاري (۲۱/ ۲۸)

والأحاديث تقتضي أن تكون التسمية واجبة علی الطعام، لأنها تدل علی مضرة عظيمة بتركها، ومع ذلك لم يذهب إليه أحد إلا الشافعي في رواية شاذة، كما في «شرح المنهاج»، وقد علمت فيما سلف أن الفقهاء لم يثبتوا الوجوب بمثل هذه الأمور المعنوية، وإنما علقوه بالخطاب، أو النكير علی التارك. (فيض الباري علی صحيح البخاري (۵/۶۲۴)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4576 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل