لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

ذیل میں ایک تحریر لکھی جارہی ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگ خواتین کو عید کی نماز میں شریک ہونے کا حکم اور ترغیب دیتے ہیں۔ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔

’’نماز عیدین عورتوں پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ عورتوں اور پردہ نشین لڑکیوں کو باہر لے جائیں تاکہ وہ جماعت المسلمین کے ساتھ دعاؤں میں شامل ہو سکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز کی جگہ سے علیحدہ رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس چادر (برقع) نہیں ہوتی۔ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ جانے والی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر کا ایک حصّہ اسے اوڑھا دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب الصلاۃ فی الثیاب) 

اے ایمان والو! غور کرو کہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا کتنا ضروری ہے؟ اے ایمان والو! صلوٰۃ العیدین میں عورتوں کا جانا حکمِ رسول ﷺسے ثابت ہے۔ کیا آج اس پر عمل ہو رہا ہے؟ غور کیجیئے جو لوگ عورتوں کو صلوٰۃ العید ین کے اجتماع میں جانے کے لیے تو منع کرتے ہیں مگر شادی بیاہ کی غیر ضروری و جاہلانہ رسموں اور گانے بجانے کی محفلوں میں جانے سے منع نہیں کرتے اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔‘‘ 

الجواب باسم ملهم الصواب

رسول اللہﷺ کے زمانے میں عورتوں کو عیدین کی نمازوں میں شرکت کا حکم تھا، اس کی وجہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کرکے کفار پر رعب ڈالنا تھی۔ اسی طرح فرض نمازوں کی جماعت میں بھی شرکت کی اجازت تھی، تاکہ رسول اللہﷺ سے براہ راست دین کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ مزید بھی حکمتیں تھیں۔ وہ خیر القرون کا زمانہ تھا، عورتوں کے مسجد جانے سے فتنے کا اندیشہ نہیں تھا، لیکن بعد کے زمانے میں فتنے ظہور پذیر ہونے لگے تو صحابہ کرامؓ نے عورتوں کو جماعت میں شرکت سے روک دیا۔ مزید یہ کہ خود رسول اللہﷺنے بھی خواتین کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ فِي مَكَانٍ خَيْرٌ لَهَا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ أَوْ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (المعجم الکبیر، ص293، الناشر: مكتبة العلوم والحكم ;الموصل، الطبعة الثانية، 1404 ;1983)

ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت کا گھر میں نماز ادا کرنا باقی تمام جگہوں پر نماز ادا کرنے سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ کے۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك)

 ترجمہ: ’’عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے یعنی عورت جس قدر بھی پردہ اختیار کرے گی اسی قدر بہتر ہے صحن میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کمرہ میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ کے اندر بنی ہوئی کوٹھری میں نماز پڑھنا افضل ہے۔‘‘

علامہ عینی رحمہ اللہ کی شرح بخاری میں ہے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے روز کھڑے ہوکر عورتوں کی طرف  کنکریاں پھینکا کرتے کہ وہ مسجد سے نکل جائیں۔

وكان ابن عمر رضي الله تعالى عنهما يقوم يحصب النساء يوم الجمعة (عمدة القاری، کتاب الاذان، باب خروج النساء إلى المساجد…)

وعن أبي عمرو الشيباني أنه رأى عبد الله يخرج النساء من المسجد يوم الجمعة ويقول اخرجن إلى بيوتكن خير لكن(الترغیب والترھیب،جزء1،كتاب الصلاة الترغيب في الأذان وما جاء في فضله)

ترجمہ: ’’ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن دیکھا کہ وہ عورتوں سےفرما رہے ہیں کہ اپنے گھروں میں جاؤ تمہارے گھر ہی تمہارے لئے بہتر ہیں‘‘۔

لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ(بخاری،کتاب الاذان،باب خروج النساء إلى المساجد…)

ترجمہ: ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اگر رسول اللہ ﷺ اس حالت کو معلوم کرتے جو عورتوں نے نکالی ہے، تو بے شک انہیں مسجد جانے سے منع کر دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا‘‘۔

سوال میں جس روایت کا ذکر کیا گیا ہے اس سے عورتوں پر عید کی نماز کا وجوب ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ عید کی نماز بالاتفاق حائضہ پر لازم نہیں لیکن پھر بھی اس کو نکلنے کا حکم دینے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہاں مجلس علم میں شرکت کی ترغیب ہے کہ عورت خیر کے کام میں شریک ہو، رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنے، احکامات سیکھے اور مسلمانوں کی تعداد بڑھائیں، جیسے عورت دیگر خیر کے کاموں مثلا مریض کی عیادت وغیرہ کے لئے نکلتی ہے۔

ذكر استنباط الأحكام منها: أن الحائض لا تهجر ذكر الله تعالى. ومنها: ما قاله [قعالخطابي [/ قع: أنهن يشهدن مواطن الخير ومجالس العلم خلا أنهن لا يدخلن المساجد. وقال ابن بطال: فيه جواز خروج النساء الطاهرات والحيض إلى العيدين، وشهود الجماعات، وتعتزل الحيض المصلى، وليكن ممن يدعو أو يؤمن رجاء بركة المشهد الكريم. قال النووي: قال أصحابنا: يستحب إخراج النساء في العيدين غير ذوات الهيئات والمستحسنات، وأجابوا عن هذا الحديث بأن المفسدة في ذلك الزمن كانت مأمونة بخلاف اليوم، وقد صح عن عائشة، رضي الله تعالى عنها، أنها قالت: (لو رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء بعده لمنعهن المساجد كما منعت نساء بني إسرائيل) . وقال [قععياض [/ قع: وقد اختلف السلف في خروجهن، فرأى جماعة ذلك حقا، منهم: أبو بكر وعلي وابن عمر في آخرين، رضي الله عنهم، ومنعهن جماعة، منهم: عروة والقاسم ويحيى ابن سعيد الأنصاري ومالك وأبو يوسف؛ وأجازه [قعأبو حنيفة [/ قع مرة ومنعه مرة، وفي الترمذي: وروي عن ابن المبارك: أكره اليوم خروجهن في العيدين، فإن أبت المرأة إلا أن تخرج فلتخرج في أطمارها بغير زينة، فإن أبى ذلك فللزوج أن يمنعها. ويروى عن الثوري أنه كره اليوم خروجهن قلت: اليوم الفتوى على المنع مطلقا، ولا سيما في الديار المصرية. ومنها: أن بعضهم استدلوا بهذا على وجوب صلاة العيدين؛ وقال القرطبي: لا يستدل بذلك على الوجوب لأن هذا إنما توجه لمن ليس بمكلف بالصلاة بالاتفاق، وإنما المقصود التدرب على الصلاة والمشاركة في الخير وإظهار جمال الإسلام. وقال القشيري: لأن أهل الإسلام كانوا إذ ذاك قليلين. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، 3/ 305)

لہذا عورتوں کا بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا، چاہے وہ نماز کے لئے ہو یا بازار جانے کے لئے ہو، ناجائز ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4499 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل