لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

غير مسلم کے ساتھ کھانا کھانے کی گنجائش  ہے یا نہیں؟ اس کا جواب مرحمت فرمائيں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

غیر مسلموں كی  تالیفِ قلب اوران كواسلام كی طرف مائل كرنے كے لیے ایك دو مرتبہ کبھی کبھار ان كے ساتھ کھانا کھانے کی گنجائش ہے، جیسا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو ایك یہودی نے كھانے پر مدعو كیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كی دعوت قبول فرمالی، چنانچہ مسند احمد میں ہے: حدثنا عبد الصمد، حدثنا أبان، حدثنا قتادة، عن أنس، أن يهوديا دعا النبي صلی الله عليه وسلم إلی خبز شعير وإهالة سنخة، " فأجابه ".قال الشيخ شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح علی شرط مسلم (مسند أحمد،۲۰/ ۴۲۴) 

ترجمہ: ”حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے كہ ایك یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو جو كی روٹی اور  بو دارچربی كھانےكی دعوت دی ،تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قبول فرمالی“۔

لیكن واضح رہے كہ غیر مسلموں كے ساتھ كھانا كھانے كو عادت اور معمول بنانا درست نہیں، كیونكہ یہ ان كے ساتھ تعلق بڑھانے اور دلی دوستی كا سبب بنے گا اورکافروں سے ایسی دلی دوستی رکھنا منع ہے کہ جس کی وجہ سے دین میں مداہنت اور کافروں کے مذہبی طور طریقوں سے اُنسیت کا احساس ہو۔ ارشادِ باری تعالی ہے: يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين أولياء من دون المؤمنين أتريدون أن تجعلوا لله عليكم سلطانا مبينا (سورة النساء،آية: ۱۴۴) ترجمہ: ”اے ایمان والو! مسلمانوں كوچھوڑ كر كافروں كو اپنا دوست نہ بناؤ، كیا تم اپنے اوپر اللہ كا صریح الزام لینا چاہتے ہو“۔

ولم يذكر محمد رحمه الله الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا، وحكي عن الحاكم عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به، فأما الدوام عليه يكره؛ لأنا نهينا عن مخالطتهم وموالاتهم وتكثير سوادهم، وذلك لا يتحقق في الأكل مرة أو مرتين، إنما يتحقق بالدوام عليه.( المحيط البرهاني ،۹ /۲۱۷)

ولم یذکر محمد رحمہ اللہ تعالی الأکل مع المجوسی ومع غیرہ من أهل الشرک أنہ هل یحل أم لا وحکی عن الحاکم الإمام عبد الرحمن الکاتب أنہ إن ابتلی بہ المسلم مرۃ أو مرتین فلا بأس بہ وأما الدوام علیہ فیکرہ کذا فی المحیط(الفتاوی الھندیۃ،۵؍۳۴۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4626 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل