لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

ايک عورت کا آپريشن کرنے سے بچہ پيدا ہوا، اب اس عورت کی مدتِ نفاس کيا ہوگی؟ عدمِ رؤیتِ دم کی وجہ سے شوہر بحالتِ مجبوری غلبہ شہوت کی وجہ سے جماع کرسکتا ہے یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

مذكورہ صورت میں اگریہ عورت معتادہ ہے، یعنی اس کے یہاں پہلے بھی ولادت ہوئی اور اس کی نفاس کی اور نفاس کے بعد طہر کی عادت مقرر ہے، تو اپنی سابقہ عادت کے موافق نفاس اور طہر کے دن شمار کرے گی، اوراگریہ عورت مبتدأہ ہے یعنی اس كے یہاں پہلی بار بچہ کی ولادت ہوئی، تو چالس دن كے اندر اندر آنے والاخون نفاس كہلائے گا، اگر خون چالیس دن پورے ہونے سے پہلے بند ہوجائے تو یہ عورت پاك كہلائے گی اور اگر چالیس دن كے بعد بھی خون جاری رہے تو چالیس دن بعد آنے والا خون استحاضے كا خون كہلائے گا، اس كا حكم یہ ہے كہ یہ عورت چالیس دن پورے ہونے پر غسل كرے اور اس كےبعد نماز پڑھے اور ہر نماز كے لیے نیا وضوكرے۔

لہذا مذكورہ تفصیل كے مطابق عورت معتادہ ہو یا مبتدأہ، نفاس  كی مدت کا تعین كركے عمل كرلیا جائے۔ جو دن نفاس کے ہوں گے، ان میں جماع كرناجائز نہیں اور جو دن طہر کے ہوں گے، اُن میں جماع كرنا درست ہے، البتہ دخول كے بغیر استمتاع جائز ہے، یعنی ناف سے گھٹنوں تك كپڑا ركھ كر كپڑے كے اوپر سے اوربقیہ تمام بدن سے لذت حاصل كرنا درست ہے، اوریہ صورت بالاتفاق جائز ہے، اورحالتِ حیض یا نفاس میں جماع كرنا یا ناف سے گھٹنوں تك كی جگہ سے بلا حائل ہاتھ وغیرہ سے لذت حاصل كرنا، یہ دونوں صورتیں بالاتفاق حرام ہیں۔ (درس ترمذی بتصرف: ۱/۳۸۹) تاہم اگر چالیس دن سے پہلے خون بند ہوجائے تو مستحب یہ ہے كہ غسل كے بعد صحبت كی جائے۔

أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوی، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم علی الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط. (الفتاوی الهندية،۱/ ۳۷)

(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (الدر المختار,۱/ ۲۸۵) 

(وأكثره أربعون يوما)كذا رواه الترمذي وغيره ولأن أكثره أربعة أمثال أكثر الحيض.(والزائد)علی أكثره (استحاضة)لو مبتدأة؛ أما المعتادة فترد لعادتها. (الدر المختار،۱/۳۰۰)

إذا انقطع لتمام العشرة يحل وطؤها بمجرد الانقطاع ويستحب له أن لا يطأها حتی تغتسل، وفيما إذا انقطع لما دون العشرة دون عادتها لا يقربها وإن اغتسلت ما لم تمض عادتها، وفيما إذا انقطع للأقل لتمام عادتها إن اغتسلت أو مضی عليها وقت صلاة حل وإلا لا وكذا النفاس إذا انقطع لما دون الأربعين لتمام عادتها، فإن اغتسلت أو مضی الوقت حل وإلا لا(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۱/۲۳۱)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4626 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل