لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

مفتی اویس پاشا قرؔنی

ضبط و ترتیب: مولانا محمد اقبال

ہارون آفندی آلِ عثمان سے ایک یادگار ملاقات

ترکیہ کا نام آتے ہی قدرتی طور پر تاریخ کے طالبِ علم کا ذہن اس کی تابناک تاریخ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اور ترکیہ کی بے مثال اور شاندار تاریخ، عثمانی خاندان کے بغیر نامکمل ہے۔ بلکہ یوں کہیں تو زیادہ درست ہوگا کہ ترکیہ کی تاریخ، عثمانی خاندان کی تاریخ ہے اور عثمانی خاندان کی تاریخ ترکیہ کی تاریخ ہے، یعنی یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس خاندان نے تقریباً چھے صدیوں تک بڑے احتشام کے ساتھ بلادِ ترکیہ سمیت تقریبا تمام عالمِ اسلام پر حکومت کی ہے۔ نیز خلافت جیسے عظیم منصب کا اختتام سلطانِ معظم عبد الحمید ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی معزولی پر ہوا۔ جب جنگِ عظیم میں ترکیہ کمزور ہونے لگا تو بیرونی سازشوں کے ذریعے یہاں مختلف تنظیمیں قائم کی گئیں جو خلافت کے خاتمے کے لیے کمر بستہ ہوئیں۔ چنانچہ ان تنظیموں کی کوششوں کی بنا پر سلطان عبد الحمید ثانی کو ۱۹۰۸ء میں معزول کر دیا گیا۔ سلطان عبد الحمید ثانی کی جگہ ان کے بھائی محمد رشاد خان تخت نشین ہوئے جو ۱۹۱۸ء تک سلطان رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ایک اور بھائی وحید الدین خان سلطان چنے گئے جو ۱۹۲۲ء تک تختِ حکومت پر متمکن رہے۔ بدنصیب مصطفیٰ کمال نے یکم نومبر ۱۹۲۲ء کو سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا اور وحید الدین خان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔ سلطان وحید الدین خان کی جبری معزولی اور ملک بدری کے بعد ان کے چچا زاد بھائی عبد المجید ثانی بن سلطان عبد العزیز خلیفہ منتخب کیے گئے جو ۱۹۲۴ء تک خلیفہ رہے، مگر پھر مصطفیٰ کمال نے انھیں بھی معزول کر کے خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مصطفیٰ کمال نے عبد المجید ثانی کو تمام عثمانی خاندان سمیت ملک بدر کر دیا۔ انھیں صرف جلاوطن کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس خاندان کے کل افراد کی ترک جمہوریہ سے شہریت بھی ختم کر دی گئی۔ چنانچہ ایک ایسا خاندان جس نے تقریباً چھے سو سال تک بڑے طمطراق کے ساتھ حکومت کی آج اس خاندان کے کسی فرد کے لیے اپنے وطن میں ٹھہرنا بھی ممکن نہ رہا۔ سلطان کو فرانس جلاوطن کیا گیا اور عثمانی خاندان کے دیگر افراد مختلف ممالک، لبنان، مصر، شام، فرانس اور امریکہ میں رہنے لگے، یہاں تک کہ ۱۹۵۱ء میں اس خاندان کی خواتین کو اور ۱۹۷۳ء میں مرد حضرات کو وطن یعنی ترکیہ واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کے بعد عثمانی خاندان کے بعض لوگ ملک واپس آئے اور بعض اب بھی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ جلاوطنی کے زمانے میں سلطان وحید الدین خان اور سلطان عبد المجید ثانی وفات پاگئے۔ بہر حال اب سرزمین ترکیہ میں عثمانی خاندان کے جو لوگ رہائش پزیر ہیں ان میں سے استنبول میں عثمانیوں کے چشم و چراغ، سلطان عبد الحمید ثانی کے پڑ پوتے ہارون آفندی اور سگڑ پوتے عبد الحمید آفندی سے ان کے گھر پر 15 مئی بروز بدھ نمازِ عصر سے قبل ہماری ملاقات ہوئی۔ سگڑ پوتے عبد الحمید آفندی سے ان کا نسب یہ بنتا ہے: عبد الحمید آفندی آلِ عثمان ابنِ ہارون آفندی ابنِ عبد الرزاق آفندی ابنِ سلیم آفندی ابنِ سلطانِ معظم عبد الحمید ثانی خلیفۃ المسلمین۔ ہماری ان سے ملاقات کی سبیل یہ بنی کہ ہمارے ترکی کے دوستوں میں سے ایک عالم شیخ محمد سالم صاحب نے پروفیسر اربکان صاحب کے ایک پرانے شاگرد استاد شوقین سے جو صدر اردگان کے دوست بھی ہیں، رابطہ کیا اور آلِ عثمان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور بتایا کہ پاکستان سے چند علما یہاں موجود ہیں اور مسلمانوں کے آخری خلیفہ کی اولاد سے ملنے کے مشتاق ہیں۔ استاد شوقین نے کہا کہ اگرچہ ان سے ملنے پر پابندی ہے اور عام طور سے ان سے ملنے جلنے میں خفیہ ادارے رکاوٹ ڈالتے ہیں، مگر ایک تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ میں صدر جمہوریہ کے نمائندے کی حیثیت سے ان سے ملنے جاؤں تو آپ حضرات خاموشی سے آجائیں۔ میں آپ لوگوں کو بھی اپنے وفد کا حصہ بنا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ استاد شوقین صاحب یہاں پر ماضی میں میدانِ سیاست میں کافی فعال رہے ہیں، رکنِ اسمبلی بھی منتخب ہوئے، پھر جلا وطنی اور قید و بند سے بھی گزرے۔ پروفیسر اربکان صاحب کے بڑے مقرب رہے اور اب دوستی صدر اردگان کے ساتھ بھی خوب ہے۔ کسی وجہ سے آپ رفاہ پارٹی سے الگ ہوئے۔ پھر کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت کے بغیر الگ شناخت کے ساتھ ایک واعظ اور مبلغ کی حیثیت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ اب تمام سیاسی پارٹیاں ان کا احترام کرتی ہیں۔ آپ دینی نقطۂ نظر رکھنے والے اور خاص طور پر خلافتِ عثمانیہ سے محبت کرنے والے رہنما کے طور پر معروف ہیں۔ چنانچہ حسبِ وعدہ وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گئے، اور الحمد للہ آلِ عثمان کے موجودہ سربراہ جناب ہارون آفندی اور ان کے صاحب زادے جناب عبد الحمید آفندی سے بڑی اچھی ملاقات رہی۔ ان سےہم نے پوچھا کہ آپ جلاوطنی کے بعد ترکیہ واپس کب تشریف لائے اور آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ انھوں نے اپنے والد کا قصہ سنایا کہ ہم تو یہاں سے نکال دیے گئے تھے، میرے والد امریکہ چلے گئے تھے اور بقیہ عثمانی خاندان کے لوگ یورپ، امریکہ اور دوسرے علاقوں میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ کہنے لگے کہ بیرون ممالک میں ان کے خاندان کے افراد کے معاشی حالات ٹھیک نہیں تھے کیونکہ ان کی ذاتی جائیدادوں پر ترکیہ کی جمہوری حکومت نے قبضہ کرلیا تھا۔ ہماری معاشی حالت اتنی کمزور تھی کہ بیرونِ ملک مردوں کے علاوہ خاندان کی عورتوں کو بھی ملازمت کرکے گزارا کرنا پڑتا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر ترکیہ کے وزیرِ اعظم عدنان میندریس کو رحم آیا اور انھوں نے بیرونِ ترکیہ خاندان کے افراد سے ملاقات کی تاکہ انھیں ترکیہ واپس لایا جا سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ چونکہ فسخِ خلافت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ خلیفہ مع اپنے خاندان جلاوطن کیا جائے گا۔ اسی طرح ترکیہ میں مصطفیٰ کمال کا نظریہ رکھنے والوں کے اتنے اثرات تھے کہ جب 1944 ء میں سلطان عبدالمجید ثانی بیس سالہ جلاوطنی کے بعد پیرس میں انتقال کر گئے، تو ان کی وصیت تھی کہ انھیں استنبول میں اپنے آبائی قبرستان میں دفن کیا جائے۔ لیکن ترک حکومت نے ان کی میت وصول کرنے سے صاف انکار کر دیا، یہاں تک کہ ان کی لاش دس سال تک پیرس کی مسجد کے ایک کمرے میں محفوظ رکھی گئی۔ پھر ۱۹۵۳ ء میں خلیفہ کی بیٹی کی درخواست پر ترک حکومت نے خلیفہ کی میت کو ترکی میں دفن کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ مگر پورے ایوانِ نمائندگان کی منظوری کے باوجود ایک ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ریٹائرڈ ایڈمرل رفعت اوزداش نے اجازت دینے سے انکار کر دیا جس سے مرحوم خلیفہ کی بیٹی کی امید ختم ہوگئی۔ اس کے بعد مملکت سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز نے ان کے والد کو مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دفن کرنے کی اجازت دی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عدنان میندریس کی خواہش کے باوجود اس خاندان کے لوگوں کی وطن واپسی ممکن نہ ہو سکی یہاں تک کہ عدنان میندریس کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور وزیرِ اعظم ترگت صاحب آئے، وہ آلِ عثمان کو ترکیہ واپس لانے میں کامیاب ہوئے مگر وہ بھی شہریت نہیں دے سکے محض اقامہ دیا جس پر وہ یہاں رہنے لگے۔ ہارون آفندی کہتے ہیں کہ اقامہ تو فراہم کیا گیا مگر ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا کہ ہمارے جتنے اوقاف تھے اور جو ذاتی جائیداد تھی سب ہم سے چھین لی گئی اور باقاعدہ دستخط کروا لیے گئے کہ اس میں آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔ حالانکہ ہمارے ساتھ طے یہ ہوا تھا کہ وہ اس کے بدلے کم ازکم ہمیں شہریت دیں گے اور ہمیں یہاں رہنے کا حق ملے گا۔ بہر حال پھر بہت عرصے کے بعد اب جا کر موجودہ صدر رجب طیب اردگان کے زمانے میں انھیں شہریت ملی۔ ساتھ ہی اردگان نے سیکیورٹی فراہم کی ہے اور گزر بسر کے لیے تھوڑے بہت وظائف بھی جاری کیے ہیں۔ بہرحال کہا جاسکتا ہے کہ ترکیہ میں ان کی گزران متوسط درجے کی ہے۔ عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد سلطنت تو اس خاندان میں باقی نہیں رہی مگر خاندان کا سربراہ مقرر کرنے کا طریقہ وہی ہے جو سلطنت کے زمانے میں ہوتا تھا، یعنی خاندان کا سربراہ وہی بنے گا جو بڑے بیٹے کا بڑا بیٹا ہو۔ اس حساب سے ہارون آفندی جن سے ہماری ملاقات ہوئی آلِ عثمان کے موجودہ سربراہ ہیں اور ان کی عمر ترانوے سال ہے۔ جب ہم نے ان سے عمر کے متعلق پوچھا تو بطورِ مزاح کہنے لگے کہ میری عمر سینتیس سال ہے اس سے زیادہ میں بڑا ہوتا ہی نہیں، یعنی میں جوان ہوں۔ اس موقعے پر انھوں نے بتایا کہ جب میرے والد عبد الرزاق آفندی امریکہ میں مقیم تھے تو انھوں نے ایغور مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائی اور ان کے لیے چندہ اکھٹا کرنے لگے۔ جب میری عمر چار مہینے تھی تو اس وقت میرے والد کو چینیوں نے شہید کر دیا، کیونکہ ایغور مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا چین کے خلاف جاتا تھا تو انھوں نے میرے والد صاحب کو ایسے موقعے پر شہید کیا جب وہ سجدے میں تھے۔ پیچھے سے ان کے سر پر گولی ماری گئی۔ آج کل ان کے پوتے عبد الحمید آفندی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے دادا کی میت کو امریکہ سے ترکیہ منتقل کریں۔ ہارون آفندی نے بتایا کہ پھر ان کا خاندان امریکہ سے شام منتقل ہوا، شامی حکومت نے ہمیں پناہ دی ہوئی تھی۔ پھر جب شام میں حالات موافق نہیں رہے تو ہم سعودی عرب منتقل ہوئے اور پندرہ سال سعودی عرب میں رہے۔ ان کو شاہ فہد نے سرکاری پروٹوکول دیاہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہارون آفندی شامی لہجے میں عربی بولتے ہیں اور ترکی زبان بہت کم جانتے ہیں کیونکہ ان کی اکثر زندگی آبائی وطن سے باہر جلاوطنی میں گزری ہے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ ہم غزہ کے مسلمانوں کی خدمت کرتے ہیں تو ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے جب ان کی ملاقات ہوئی تو بتایا کہ ہمارے پاس کوئی شہریت نہیں ہے، تو اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ ہم بھی آپ جیسے ہیں ہمارے پاس بھی کوئی شہریت نہیں ہے۔ اور بتایا کہ ہم دونوں کا جرم ایک ہی ہے کہ آپ کے پردادا سلطان عبد الحمید ثانی نے ارضِ مقدس کے لیے اپنی خلافت قربان کی اور بیت المقدس کو یہودیوں کے ہاتھوں نہیں بیچا۔ تو اس لحاظ سے آپ بھی وہی سزا بھگت رہے ہیں کہ کسی ملک کا پاسپورٹ نہیں ہے اور ہم بھی یہی سزا بھگت رہے ہیں کہ بیت المقدس کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہمارے پاس بھی کوئی شہریت نہیں ہے۔ کہنےلگے کہ کچھ سال پرانا واقعہ ہے اسماعیل ہنیہ نے کہا آپ اور ہم غزہ میں آزاد رہیں گے۔ بہرحال اس خاندان کے سربراہ اور عثمانیوں کے چشم و چراغ ہارون آفندی اور ان کے صاحب زادے سے ملنا زندگی کی ایک یادگار ملاقات تھی۔ اس ملاقات سے واپس فاتح استنبول میں اپنی رہاش گاہ پہنچ کر جب کچھ دیر سستانے کو ہم بستر پر لیٹے تو لڑکپن سے آج تک جو کچھ سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ پڑھ رکھی تھی وہ نظروں کے سامنے آتی رہی۔ ہارون آفندی کے جدِ اعلیٰ عثمان تو کبھی ان کے دادا موفق من اللہ، بشارتِ رسول اللہﷺسلطان محمد فاتح کا بازنطینیوں کے خلاف جہاد، تو کبھی یاووز سلیم اور سلیمان القانونی کے کارنامے یاد آتے رہے۔ کبھی شمشیر و سناں اول کا مصداق توپ کاپی سرائے اور کبھی طاؤس و رباب آخر کی تصویر ڈولما باچے پیلس بےقرار کرتے رہے۔ ایک لمحے کو چشمِ تصور یہ دیکھنے لگتی کہ ہارون آفندی تختِ سلطنت پر براجمان ہوتے تو کیا شان ہوتی اور دوسرے ہی لمحے چشمِ حقیقت سے ہم ان کی بے کسی دیکھ کر ﴿ کُلُّ مَنْ عَلیها فَانْ﴾ کی گواہی دیتے۔ اسکشمکش کے بیچ اس بات پر دل نازاں ہے کہ ایک سچے عاشقِ رسول، مجاہد القدس جس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر یہودی ہرزل کے ہاتھوں بیت المقدس کا سودا نہیں کیا، یعنی سلطانِ معظم عبد الحمید خان رحمہ اللہ خلیفۃ المسلمین کی اولاد سے، جو اسی جرم کی سزا کاٹ رہی ہے، ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس ملاقات کا وقت بھی ہمارے لیے ایک بشارت سے کم نہیں کہ جب طوفان الاقصیٰ کو سات ماہ بیت چکے ہیں اور یہ عاجز اس دوران اکثر اسی مہم میں اندرون اور بیرون ملک محوِ سفر رہا ہے اور ابھی بھی اسی سلسلے میں آخری دار الخلافہ استنبول کی سڑکوں پر سرگرداں ہے۔

لرننگ پورٹل