لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

مولانا ہوش محمد پاشا استاذ فقہ اکیڈمی

شاعرِ انقلاب معین بسیسو

عظیم فلسطینی شاعر کی تحریکی زندگی اور ان کا ایک مشہور قصیدہ معین بن توفیق بسیسو ۱۹۲۶ء میں فلسطین کے شہر غزہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم غزہ شہر کے محلے شجاعیہ میں حاصل کی اور ۱۹۴۳ء میں غزہ کالج میں داخلہ لیا۔ محض اٹھارہ سال کی عمر میں ۱۹۴۴ء مین ان کا پہلا قصیدہ یافا کے رسالے الحریة میں شائع ہوا۔۱۹۴۶ء میں حیفا کے کمیونسٹ اخبار الاتحاد میں معین بسیسو کی قوم پرست نظمیں شائع ہونا شروع ہو گئیں۔انھوں نے ۱۹۴۷ء میں غزہ کی پٹی میں نیشنل لبریشن لیگ کے کچھ کمیونسٹ ارکان سے ملاقات کی اور کمیونسٹ بننے کے بعدسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس کے بعد ۱۹۴۸ ء میں قاہرہ (مصر) میں قائم امریکی جامعہ میں پڑھنے گئے اور ۱۹۵۲ء میں صحافت کے شعبے سے فراغت حاصل کی جس میں الکلمة المنطوقة والمسموعة في برامج إذاعة الشرق الأدنی نامی مقالہ لکھا۔ اس مقالے میں آپ نے اس دور کے جدید ذرائعِ اِبلاغ (ریڈیو اور ٹی وی)اور قدیم ذریعۂ اِبلاغ (اخبار) سے متعلق بحث کی ہے۔ قاہرہ میں قیام کے دوران کمیونسٹ ڈیموکریٹک موومنٹ فار نیشنل لبریشن کے نمائندہ رسالے الملایین نے بسیسو کی تخلیقات شائع کیں۔ ۱۹۵۲ء ہی میں آپ کا پہلا دیوان المعرکة شائع ہوا۔ قاہرہ سے غزہ واپس آنے کے بعد بسیسو ایک سرکاری اسکول میں استاذ ہو گئے۔ اسی عرصے میں انھیں نیشنل لبریشن لیگ کاسیکرٹری جنرل بھی منتخب کیا گیا۔ آپ نے اسرائیلیوں کے فلسطین پر جبری قبضے کا انکار کرتے ہوئے ان کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے قصائد کے ذریعے لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ اسرائیلیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ جس کی وجہ سے آپ کو دو مرتبہ (۵۷۔۱۹۵۵ء اور ۶۳۔۱۹۵۹ء) جیل بھی جانا پڑا۔ آپ کی انھی خدمات کے پیشِ نظر آپ کو ’’شاعرِ غزہ‘‘ کا لقب دیا گیا۔ جب اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں غزہ پر قبضہ کیا تو بسیسو غزہ چھوڑ کر دمشق چلے گئے جہاں انھوں نے شامی اخبار الثورة میں کام کیا اور ۱۹۶۸ء تک شامی ریڈیو کے لیے مختلف پروگرام بھی لکھے۔۱۹۷۲ء میں بسیسو بیروت منتقل ہو گئے اور یہاں فلسطینی مصنفین اور صحافیوں کی جنرل یونین کے جنرل سیکری ٹیریٹ کے رکن منتخب ہوئے اور ایفرو ایشین رائٹرز یونین کے جنرل سیکری ٹیریٹ کے رکن بھی بن گئے۔ بیروت میں قیام کے دوران یاسر عرفات کے مشیر بھی رہے۔ جس زمانے میں معروف انقلابی شاعر فیض احمد فیضؔ لبنان میں مقیم تھےاور حریتِ فلسطین کی جدوجہد میں پیش پیش تھے، معین بسیسو کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۸ء میں حریت پسندوں کے معروف ثقافتی و سیاسی مجلے لوٹَس کے مدیر یوسف سباعی کے انتقال کے بعد لوٹَس کے شایانِ شان کسی مدیر کے تقرر کی ضرور آن پڑی تو معین بسیسو ہی یاسر عرفات کی طرف سے ادارت کی پیش کش لے کر فیضؔ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بسیسو کچھ عرصہ تیونس میں بھی مقیم رہے۔ان کی تحریروں کا روسی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، ہسپانوی، جاپانی، ویتنامی اور فارسی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ان کا ترجمہ وسط ایشیائی ریاستوں کی کئی زبانوں میں بھی کیا گیا جو کبھی سابق سوویت یونین کا حصہ تھیں۔معین بسیسو ۲۳، جنوری ۱۹۸۴ء کو لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، ان کے اہلِ خانہ نے انھیں غزہ میں دفن کرنا چاہا لیکن اسرائیل نے انکار کر دیا، چنانچہ ان کی میت کو لندن سے تیونس اور پھر قاہرہ لے جایا گیا، جہاں انھیں قاہرہ کے مضافات میں اربعینات قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔معین بسیسو فلسطین کے بڑے اور نمائندہ شاعر اور ادیب تھے جنھوں نے کمیونسٹ اور قوم پرست حریت پسندوں کے ساتھ مل کر فلسطین کی آزادی کی خاطر اپنی عمر وقف کردی اور عالمی سطح پر فلسطین کی تحریکِ آزادی کا پیغام عام کیا، دنیا بھر کو غاصب صیہونیوں کے مظالم سے آگاہ کیا اور استقامت کی ایک مثال قائم کی۔ بسیسو محض’’انقلابی شاعر‘‘ اور ’’باغی شاعر‘‘ ہی نہیں غضب کے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ ۲۰۱۵ءمیں، بیروت میں دار الفارابی نے بسیسو کے مکمل ادبی کاموں کو ستائیس کتابوں میں شائع کیا، جس میں شاعری کی تین، ڈراموں کی دو، اور نثر کی سات جلدیں شامل تھیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے: شاعری: المعركة،مارد من السنابل، فلسطين في القلب،الأشجار تموت واقفة، جئت لأدعوك باسمك، الآن خذي جسدي كيساً من رمل، القصيدة. ڈرامے:مأساة إرنستو تشي جيفارا، ثورة الزنج، شمشون ودليلة. نثر:نماذج من الرواية الإسرائيلية المعاصرة، يوميات غزة، أدب القفز بالمظلات، باجس أبو عطوان: مات البطل عاش البطل، البولدوزر، دفاتر فلسطينية، الاتحاد السوفييتي لي، ۸۸ يوماً خلف متاريس بيروت. درج ذیل قصیدہ بھی معین بسیسو کے اہم قصائد میں سے ایک ہے۔ اس قصیدے کو دو مختلف عنوانات کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے: سنقتلعُ الموتَ من أرضنا (ہم جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے) اور الطریقة إلی الزِنزانة (جیل کا راستہ)۔کیونکہ اس قصیدے میں ایک مردِ مجاہد کے اُن احوال کا ذکر ہے جو اسے جیل خانے کی طرف جاتے ہوئے پیش آتے ہیں، جس وقت سپاہی اس کو بغیر کسی وجہ کےگھر سے جیل لے جا رہے ہوتے ہیں:

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

ہم جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

هُنَاكَهُنَاكَبَعِيْدًا بَعِيدْ

وہاںوہاں بہت ہی دور 

سيَحْمِلُنِيْ يَا رِفَاقِيالْجُنُوْدْ

اے میرے ساتھیو! جلد ہی مجھے لشکر لے جائیں گے 

سَيُلْقُوْنَ بِيْ فِي الظَّلَامِ الرَّهِيبْ

عن قریب وہ مجھے خوفناک اندھیرے میں ڈال دیں گے 

سَيُلْقُوْنَ بِيْ فِيْ جَحِيْمِ الْقُيُودْ

جلد ہی مجھے وہ پابندیوں والی جہنم میں دھکیل دیں گے 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

(اس کے باوجود)ہاں! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی موت کو اپنی سرزمین سےاکھاڑ پھینکیں گے 

لَقَدْ فَتَّشُوْا غُرْفَتِيْ يَا أَخِيْ

اے بھائی! انھوں نے میرے کمرے کی تلاشی لی

فَمَا وَجَدُوْا غَيْرَ بَعْضِ الْكُتُبْ

تو انھیں کچھ نہ ملا چند کتابوں کے سوا 

وَأَكْوَامِ عَظْمٍ هُمُ… إِخْوَتِيْ

اور ہڈیوں کے ڈھیر کے سوا ، میرے دیگربھائی 

يَئُنُّوْنَ مَا بَيْنَ أمٍّ… وَّأَبْ

ماں باپ کے سامنے رو رہے تھے 

لَقَدْ أَيْقَظُوْهُمْ… بِرَكْلَاتِهِمْ

سپاہیوں نے لاتوں سے انھیں اٹھایا 

لَقد أشعلوا في العيونِ الغضبْ

انھوں نے آنکھوں میں غصے کو بھڑکادیا 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

سن لو! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 

أَنَا الْآنَ بَيْنَ جُنُوْدِ الطُّغَاةِ

 

اب میں باغیوں کے لشکروں کے درمیان (گھرا ہوا ) ہوں،

أَنَا الْآنَ أُسْحَبُ لِلْمُعْتَقَلْ

اب میں قید خانے کی طرف دھکیلا جا رہا ہوں 

وَمَا زَالَ وَجْهُ أَبِيْ مَاثِلًا

اور میرے والد کا چہرہ ہمیشہ میرے سامنے رہتا ہے

أَمَامِيْ… يُسَلِّحُنِيْ بِالْأَمَلْ

اس حال میں کہ وہ مجھے امید سے مسلح کر رہے ہوتے ہیں 

وَأُمِّيْ… تَئُنُّ أَنِيْنَا طَوِيلْ

اور میری والدہ بہت زیادہ رو تی ہیں،

وَمِنْ حَوْلِهَا إِخْوَتِيْ يَصْرُخُونْ

اور اُن کے آس پاس میرے بھائی آہ و فغاں کرتے ہیں 

وَمِنْ حَوْلِهِمْ… بَعْضُ جِيْرَانِنَا

اور ان کے اردگرد ہمارے کچھ پڑوسی ہوتے ہیں 

وَكُلٌّ لَّه… وَلَدٌ فِي السُّجُونْ

اور (ان میں سے )ہر ایک کا بچہ قید میں ہے 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

پھر بھی! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 

وَلٰكِنَّنِيْ رَغْمَ بَطْشِ الْجُنُودْ

 

اور میں نے سپاہیوں کی گرفت کے باوجود

رَفَعْتُ يَدًا أَثْقَلَتْهَا الْقُيُودْ

(اپنا) ہاتھ بلند کیا جو بیڑیوں کے وَزْن سےبھاری ہو چکا تھا،

وَصِحْتُ بِهِمْ: إِنَّنِيْ عَائِدٌ

پھر میں نے انھیں چیخ کر کہا: ’’میں ضرورواپس آؤں گا

بِجَيْشِ الرِّفَاقِ… بِجَيْشِ الرُّعُودْ

ساتھیوں کا لشکرلے کررعب اور دبدبے والا لشکرلے کر‘‘ 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

سنو ظالمو! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 

هُنَاكَ أَرٰى عَامِلًا فِي الطَّرِيْقْ

 

وہاں مجھے راستے میں ایک کارندہ نظر آ رہا ہے

أَرٰى قَائِدَ الثَّوْرَةِ الْمُنْتَصِرْ

مجھے انقلاب کا فاتح رہنما نظر آ رہا ہے،

يُلَوِّحُ لِيْ بِيَدٍ مِّنْ حَدِيدْ

وہ میری خاطر(اپنا )آہنی ہاتھ ہلاتا ہے،

وَأُخْرٰى تَطَايَرَ مِنْهَا الشَّرَرْ

جبکہ دوسرے (ہاتھ) سے شعلے نکل رہے ہیں 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

ہاں! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 

أَنَا الْآنَ بَيْنَ مِئَاتِ الرِّفَاقِ

 

اب میں سینکڑوں ساتھیوں کے درمیان ہوں،

أَشَدُّ لِقَبْضَاتِهِمْ… قَبْضَتِيْ

میں نے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اپنی گرفت مضبوط کی

أَنَا الْآنَ أَشْعُرُ أَنِّيْ قَوِيّ

اب میں محسوس کرتا ہوں کہ میں بہت طاقت ور ہوں

وَأَنِّيْ سَأَهْزِمُ… زِنْزَانَتِيْ

اور میں جلد ہی اپنے قید خانے کو شکست دے دوں گا 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

ہاں! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ

 

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

 

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، نَعَمْ سَوْفَ نَحْيَا

 

ہاں! ہم ہر گز نہیں مریں گے، ہاں! عن قریب ہم جییں گے

وَلَوْ أَكَلَ الْقَيْدُ مِنْ عَظْمِنَا

اگرچہ بیڑیاں ہماری ہڈیوں کو کھاجائیں

وَلَوْ مَزَّقَتْنَا سِيَاطُ الطُّغَاة

اور ظالموں کے کوڑے ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں،

وَلَوْ أَشْعَلُوا النَّارَ فِيْ جِسْمِنَا

چاہے وہ ہمارے جسموں کو آگ لگا دیں 

نَعَمْ لَنْ نَّمُوْتَ، وَلٰكِنَّنَا

ہاں! ہم ہر گز نہیں مریں گے بلکہ ہم

سَنَقْتَلِعُ الْمَوْتَ مِنْ أَرْضِنَا

جلد ہی اپنی سرزمین سے موت کو اکھاڑ پھینکیں گے 

 
لرننگ پورٹل