لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

ڈاکٹر محمد رشید ارشد
مدیر غزالی فورم

ہمارے عقائد پر جدید تعلیم کے اثرات

قسط نمبر ۱
اس موضوع کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلا حصہ ’’ہمارا تعارف کیا ہے اور ہمارا تصورِ علم کیا ہے؟‘‘، دوسرا حصہ ’’جدید تصورِ علم اور ہمارے عقائد پر اس کے اثرات‘‘۔ اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا بنیادی تعارف ’’عبداللہ‘‘ کا ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، یعنی یہ ہمارا جوہر اور ہماری اصل ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے ہاں فیشن بن گیا ہے اور یہ بات بہت کہی جاتی ہے کہ سب سے پہلے ہم انسان ہیں، مسلمان، عیسائی، ہندو، سکھ اور پارسی ہونا بعد کا ایک تعین ہے، ہمارا اولین تعارف انسان ہونا ہے۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کو ہم اپنے’’جوہر‘‘کے طور پر دیکھتے ہیں،حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ ہمارا جوہر حقیقت میں انسان ہونا نہیں ہے بلکہ’’عبد‘‘ یعنی بندہ ہونا ہے۔ فلسفے اور منطق میں وجود کے متعلق دو اصطلاحات ’’واجب الوجود‘‘ اور ’’ممکن الوجود‘‘ کی استعمال ہوتی ہیں۔ ایک ہے واجب الوجود، جس کا ہونا لازمی ہے اور نہ ہونا، ناممکن ہے۔ یہ وہ وجود ہے جو اپنی بنیاد پر خود سے قائم ہے، جس کو فلسفے میں necessary being کہا جاتا ہے۔ اور ایک ہے ممکن الوجود جس کو contingent being کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ہوتا ہے کہ جس کے ہاں عدم اور وجود برابر ہو، یعنی جو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا، جو نہیں تھا، پھر ہوا، پھر نہیں ہوگا یہ ممکن الوجود ہے۔ لہذا جس طرح اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے اور مخلوق ممکن الوجود ہے، اسی طرح اللہ اور ما سوا اللہ میں ایک ہی نسبت ہے کہ وہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ یہی نسبت یہاں اس طرح سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ معبود ہے باقی سب عبد ہیں۔
ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں اس بات کو دیکھنا ہے کہ یہ وجود یعنی ہستی کا جو تصور ہے اس کا میری بندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ اگر میں بنیادی طور پر ایک مذہبی وجود ہوں تو اب مجھے ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھنا ہے۔ مجھے یہ دیکھنا ہے کہ جو کچھ میں اختیار کر رہا ہوں چاہے وہ کوئی چیز ہو یا کوئی تصور، یہ میرے مذہبی وجود کو یامیری بندگی کے وجود کو کہیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچا رہا، اس کو متاثر تو نہیں کر رہا۔ یہ گویا میرا سب سے بڑا مسئلہ ہونا چاہیے۔ اصولِ فقہ میں مقاصدِ شریعت بیان کیے جاتے ہیں تو اس میں بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے حفظِ دین یا حفظِ ایمان ہے، پھر حفظِ نفس یا حفظِ جان، اس کے بعد حفظِ نسل، حفظِ مال اورحفظِ آبرو ہیں۔ یہ درجہ بندی اس اعتبار سے ہے کہ شریعت کے سارے احکام ان پانچ میں سے کسی نہ کسی درجے کے تحت آئیں گے۔لہذا یہاں یہ دیکھنا اہم ہے کہ سب سے بڑا فرض ایمان بچانا ہے۔ یہاں تک تو ہماراتعارف تھا کہ ہم ’’اللہ کے بندے‘‘ ہیں۔ اب ہم تصورِ علم کی طرف آتے ہیں۔
تعلیم کے اندر غیر معمولی تاثیر ہوتی ہے یعنی تعلیم کا پورا عمل انسان کی تشکیل کرتا ہے۔انسان کاظاہری وجود اس کے ماں باپ کا پروردہ ہوتا ہے، اور باطنی وجود کی پرورش معلم کرتا ہے۔بقول علامہ اقبالؔ:

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

اور تعلیم کی تاثیرکیا ہے، اس پر علامہ اقبالؔ کا شعردیکھیے:

تعلیم کے تیزاب ميں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
تاثیر ميں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

یہاں علامہ اقبال جس تعلیم پر گفتگو کر رہے ہیں اس کی تاثیر منفی ہے یعنی یہ تعلیم سونے کے پہاڑ کو مٹی بنا دیتی ہے اور اس کا برعکس بھی ٹھیک ہے کہ مٹی کا ایک ڈھیر ہو اس کو تعلیم دے دیں، شعور دے دیں تو وہ سونے کا ہمالہ بن سکتا ہے۔ ایک اور جگہ وہ فرماتے ہیں:

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

یہاں کلیسا سے مراد چرچ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد جدید مغرب ہے۔
شعور اور و جود کی ایک پُرانی تقسیم ہے، یعنی انسان کی شخصیت میں ایک وجود ہے اور ایک شعور ہے، ایک علم ہے اور ایک اخلاق ہے۔ آپ کو یہ تقسیم دنیا کی ہر روایت میں ملے گی۔ قرآنِ مجیدمیں جگہ جگہ ایمان اور عملِ صالح کا ایک جوڑا نظرآتا ہے۔ ایمان کا تعلق فکر، شعوراور تصور سے ہے، اور عملِ صالح کا تعلق وجود، اخلاق اور عمل سے ہے۔ علامہ اقبال کے خطبات The Reconstruction of Religious Thought in Islam کے ابتدائیے کا پہلا جملہ ہی یہی ہے کہ: The Islam is a religion which emphasizes ‘deed’ rather than ‘idea’ ۔

اسلام کا تصورِ علم
اسلام میں علم سے مراد ہے کہ انسان یہ جان لے کہ وہ مخلوق ہے، وہ فانی ہے، اور وہ یہ بھی جان لے کہ کائنات مخلوق ہے اور فانی ہے، اور مرنے کے بعد ایک عالم برپا ہوگا اور وہاں پر ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر احتساب ہوگا اور پھر یا تو ابدی راحتیں ہیں یا ابدی سزا ہے۔ قرآن مجید جس کو ’’العلم‘‘ کہتا ہے اس سے مراد یہ علم ہے، وہ صرف ونحو، منطق اور فقہ کا علم بھی نہیں ہے، اور نہ ہی وہ قرآن اور حدیث کا ٹیکنیکل معنوں میں یعنی تفسیر اور علمِ حدیث کا علم ہے۔ امام بخاری نے الجامع الصحیح میں ایک ترجمۃ الباب قائم کیا ہے: العِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، کہ کچھ کہنے اور کرنے سے پہلے ایک علم ہے، اور شروع میں وہ سورۂ محمد کی آیت لے کرآئے ہیں: ‎﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّه﴾ ’’جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے‘‘۔ اسی طرح ہمارا تصورِ علم تو یہ ہے:‎﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ ’’کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جونہیں جانتے سب برابر ہیں؟‘‘۔ یہاں جاننے والے اور نہ جاننے والے سے مراد فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، جیالوجی اور اسٹرانومی جاننے والے نہ جاننے والے نہیں ہیں۔ یہاں مبحث وہی ہے جو قرآنِ مجید دوسری جگہ کہتا ہے: ‎﴿وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ﴾ ’لیکن یہ منافق لوگ نہیں سمجھتے‘‘۔ اور ‎﴿وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾‏’’لیکن یہ منافق لوگ نہیں جانتے‘‘۔ تو وہ کون سا تفقہ ہےجس کی بات قرآن کر رہا ہے۔ دنیاوی معاملات میں تو وہ لوگ بہت سمجھ دار تھے، چال بازیاں آتی تھیں۔ لہذا کیا چیز ان کے پلے نہیں پڑ رہی: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾ ’’وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو (واقعی) ایمان لاچکے ہیں دھوکا دیتے ہیں اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) وہ اپنے سوا کسی اور کو دھوکا نہیں دے رہے لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں ہے‘‘۔ہماراکل تصورِ علم یہ ہے۔ بطورِ مثال ایک واقعہ ملاحظہ ہو:کسی نے امام حسنِ بصری سے کہا کہ آپ تو یہ کہتے ہیں اور فلاں فقیہ یہ کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فرمایا:ثَكِلَتْك أُمُّك، وَهَلْ رَأَيْت فَقِيهًا بِعَيْنِك؟ إنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ، الْبَصِيرُ بِدِينِهِ الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ، الْوَرِعُ الْكَافُّ عَنْ أَعْرَاضِ الْمُسْلِمِينَ، الْعَفِيفُ عَنْ أَمْوَالِهِمْ النَّاصِحُ لِجَمَاعَتِهِمْ.(رد المحتار على الدر المختار،ج:۱، ص:۳۷)’’تمھاری ماں تمھیں روئے، تم نے کبھی زندگی میں فقیہ دیکھا بھی ہے یا بس صرف فقاہت کا نام ہی سن لیا ہے؟ فقیہ تو وہ ہے جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے، آخرت کی طرف رغبت کرتاہے، اپنے دین کی بصیرت رکھتا ہے، اپنے رب کی بندگی پر مداومت کرتا ہے، صاحبِ ورع ہے یعنی شبہات سے بچتا ہے، مسلمانوں کی عزتوں کو بے آبرو کرنے سے اپنے آپ کو روکتا ہے، ان کے اموال کے بارے میں عفّت مآب ہے اور ان کی جماعت کے ساتھ خیر خواہی کرنے والا ہے‘‘۔
ماقبل کی گفتگو میں ’العلم‘ کی تعریف سامنے آئی، لیکن اس کے علاوہ اور بھی علوم ہیں اگر آپ اس کی درجہ بندی اور مراتب سمجھنا چاہیں تو امام غزالی کی کتاب إحیاء علوم الدین کے پہلے باب کتاب العلم کو تفصیل سے پڑھ لیں۔ اگر اختصار مطلوب ہو تو امام غزالی کی ’ علمی سوانح‘ المنقذ من الضلال ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جو انگریزی میں Deliverance from Error کے نام سے چھپا ہے، اردو میں بھی اس کے کئی تراجم موجود ہیں۔ اس میں امام غزالی نے علوم کی اقسام بتائی ہیں، اس کا مطالعہ کریں۔ انھوں نے اس میں فلسفے اور اس کی اقسام مثلاً، الدهریون، طبیون، الٰهیون وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب بڑے فاضل آدمی تھے، انھوں نے ایک اصطلاح متعارف کروائی’ علم بالوحی‘ ،یہ متن یعنی قرآن وسنت کا علم ہے۔ ایک علم ہے ’انسانی استعداد کا زائیدہ علم‘ یعنی وہ علم جو انسانی استعداد سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک Revealed Knowledge ہے اور ایک Acquired Knowledge ہے، Revealed کے مقابلے میں تسلیم سے بات شروع ہوگی، تسلیم، تفہیم، تعمیل۔ اور ایک اور لفظ ہمارے استاذ کہتے تھے تحویل، کہ سب سے پہلے آپ مان لیں، پھر سمجھیں، پھر اس پر عمل کریں اور پھر تحویل کو وہ حال کے معنیٰ میں بیان کرتے ہیں، حالانکہ یہ معروف استعمال نہیں ہے۔ تحویل کا مطلب تو مڑنے کا ہوتا ہے جیسے تحویلِ قبلہ وغیرہ، چنانچہ تحویل اس معنوں میں کہ جیسے اس کو اپنا حال بنالیں۔ کبھی اگر آپ نے دیکھنا ہو کہ ہمارے علوم کی نوعیت کیا ہے تو ایمان یعنی ہمیں کچھ ماننا ہے، اسلام کا مطلب ہمیں کچھ کرنا ہے اور احسان کے معنیٰ ہیں کہ ہمیں کچھ بننا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ: إنَّ الصِّدْقَ یُنْجِی والْکَذِبَ یُهْلِکْ. ’’سچائی نجات دیتی ہے اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے‘‘۔ یہ گویا ایمان کی سطح پرہے، پھر آپ کو سچ بولنا ہے اور جھوٹ سے بچنا ہے یہ ایک عمل ہے اور پھر آپ کو سچا بننا ہے۔ سچ بولنا اور سچا بننا ایک نہیں ہے، یہ وہی وصف ہے کہ جس کے بارے میں ترمذی شریف میں اللہ کے نبیﷺکے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ ایک انسان سچ بولتا ہے اور بولتا رہتاہے ، سچ کا اہتمام کرتا ہے یہاں تک کہ: یُکْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّیقاً. ’’اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے‘‘۔یہ جو بننے کا عمل ہے، ہونے کا عمل ہے، یہ ہمارے ہاں علم کا آخری درجہ ہے کہ وہ علم ہم نے قبول کیا، اس کے بعد اس پر عمل کیا اور پھر اس کو اپنا حال بنایا۔ لہذا یہ ہمارے ہاں علم کا تصور ہے۔ اور جو دوسرے علوم ہیں ہم ان کو بھی ٹھیک کہتے ہیں کہ انھیں بھی حاصل کرنا چاہیے، لیکن جب ہم ’العلم‘ بولتے ہیں یا ہماری روایات میں آتا ہے اس سے قال الله اور قال الرسول مراد ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد آپ دنیا کے باقی علوم حاصل کریں۔ مثال کے طور پر ارسطو کو اگر آپ پڑھیں تو وہ سب سے پہلے علم کے مقاصد پر بات کرتا ہے کہ مقاصدِ علم کیا ہیں۔ ارسطو نے سب سے بنیادی مقصد ’سعادت‘ قرار دیا ہے، عام طور پر اس کا ترجمہ Happiness کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے، اصل میں وہ سعادت ہے۔ اور سعادت Contemplation of the reality سے حاصل ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے حقیقتِ کبریٰ پر غور کرنا، یہ سب سے اونچا درجہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہInto live a moral and ethical lifeوہاں سے جو معرفت آپ کو حاصل ہوئی اس کے مطابق آپ ایک اخلاقی زندگی بسر کریں۔ ارسطو نے ’’ٹیکنے‘‘ کو تیسرا درجہ قرار دیا ہے جس کو ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے یعنی طاقت۔ اس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں تو آپ کی جو ضرورتیں آپ سے وابستہ ہیں آپ ان سے اس دنیا کو تلاش کریں گے۔ آگ کی ضرورت پڑگئی تو آپ نے دو پتھر رگڑے اور اس سے آگ نکل آئی۔ اسی طرح اپنی ضرورت کے لیے آپ نے پہیہ ایجاد کر لیا۔ یہ آپ اپنی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، اپنے نفس کی بقاکے لیے یہ سارے معاملات کرتے ہیں۔
اس وقت جو مغرب کا تصورِ علم ہے اس میں پہلی دو چیزوں کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس وقت علم کا مقصود طاقت ہے، یعنی پیش گوئی کے ذریعے کنٹرول، یہ سائنس ہے۔ اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ یہ جو فزکس اور کیمسٹری کا علم ہے اس میں طے شدہ نتائج ہیں، بنے بنائے سانچے ہیں، آپ پیش گوئی کرسکتے ہیں تو آپ اختیار بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور آج جو مولوی لوگ ہیں ان کے پاس کون سا علم ہے، یہ ہمیں کیا بتا سکتے ہیں، کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ یہ کرلو گے تو ایسا ہو جائے گا۔ ہمارے ہاں یہ بھی ایک تصور ہے کہ یہ بھی عروج وزوال کا ایک الٰہی قانون ہوتا ہے کہ یہ چار مراحل طے کرلیں گے تو ایسا ہو جائے گا۔ میں اس کو مغالطہ سمجھتا ہوں، عروج وزوال کے متعلق ہمارے ہاں بہت خلطِ مبحث پیدا ہوا ہے۔دنیا میں قوموں اور قیادتوں کا بھی ایک قانونِ فطرت ہے اور وہ کوئی بھی قوم اختیار کرلے گی تو وہ عروج پر آجائے گی، میں اس بات کو بہت بڑا مغالطہ سمجھتا ہوں۔ جب سے ہم استعمار کا نشانہ بنے یہ بیانیہ شروع ہوا۔
مغرب کا تصورِ علم
ہمارا تصورِ علم کیا ہے اس کے متعلق ہم نے کچھ باتیں عرض کیں، اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغرب کا تصورِ علم کیا ہے اور اسی سے ان کی تعلیم کا تصور بھی واضح ہو جائےگا۔ ذیل میں مغربی مفکرین کی کتابوں سے کچھ اقتباسات درج کیے جاتے ہیں تاکہ مغرب کا تصورِ علم انھی کے مفکرین کے الفاظ میں نمایاں ہو جائے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ تصورات ہم نے خود سے گھڑ لیے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ’’روشن خیالی‘‘ سےمتعلق ایک انسائیکلوپیڈیا چھپا تھا جو فرانسیسی فلاسفہ نے تیارکیا تھا، یہ وہ فلسفی تھے جن کا انقلابِ فرانس میں بھی اہم کردار تھا، ان فلاسفہ میں والٹیئر بھی شامل ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کا چیف ایڈیٹر Denis Diderot تھا جو اس موضوع پر ایک بڑا نام ہے۔ ہم اس کا ایک اقتباس یہاں نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ اٹھارھویں صدی کے اختتام پر مغرب میں تصورِ علم کیا تھا۔ہم یہ بات جانتے ہیں کہ 1500ء تک پوری دنیا کا تصورِ علم تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ وہی تھا جو مسلمانوں کا تھا، اس کے جوہر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ لیکن Denis Diderot نے آ کر کہا:There are three principal means of acquiring knowledge … observation of nature, reflection, and experimentation. Observation collects facts; reflection combines them; experimentation verifies the result of that combination. (Diderot, 1784) ’’علم حاصل کرنے کے تین بنیادی ذرائع ہیں: فطرت کا مشاہدہ، عکاسی، اور تجربہ۔ مشاہدہ حقائق کو جمع کرتا ہے، عکاسی انھیں یک جا کرنے کا کردار اداکرتی ہے، جبکہ تجربہ یک جا ہونے کے بعد اس کے نتیجے کی تصدیق کرتا ہے‘‘۔ جو سائنسی طریقۂ کار ہے اس کو انھوں نے تین جملوں میں بالکل سادگی سے بیان کیا۔
اگلا جملہ جان لاک کا ہے جو بڑا فلسفی ہے: No Man’s Knowledge Can Go Beyond His Experience ’’کسی انسان کا علم اُس کے تجربے سے آگے نہیں بڑھ سکتا‘‘۔جان لاک کے بعد کانٹ آیا، اور کانٹ نے اپنے تئیں خدا کے وجود کے دلائل کو اڑا کر رکھ دیا:All our knowledge begins with the senses, proceeds then to the understanding, and ends with reason. There is nothing higher than reason. ’’ہمارا تمام علم حواس سے شروع ہوتا ہے، پھر سمجھ کی طرف بڑھتا ہے، اور عقل پر ختم ہوتا ہے۔ لہذا عقل سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔ان کے جدید تہذیب کے پیغمبر یہ باتیں کر رہے ہیں، یہ ہلکے لوگ نہیں ہیں، سیاسیات اور فلسفے کے ماہرین سے پوچھ لیں کہ فلسفے میں جان لاک کا کیا درجہ ہے یا کانٹ کس پائے کا فلسفی ہے؟ تو کانٹ نے بڑی صفائی سے کہا کہ علم کا آغاز حواس سے ہوتا ہے اور علم کی انتہا اور تکمیل میرے ذہن میں ہوتی ہے۔
اس کے بہت بعد ایک فرانسیسی فلسفی لیوتار آیا، اس نے ۱۹۷۹ء میں ایک کتاب لکھی۔ لیوتار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مابعدِ جدیدیت کا Early Theorist ہے، اس کی کتاب ہے The Postmodern Condition: A Report on Knowledge ۔ اگرچہ ’’مابعدِ جدیدیت‘‘ کی تعریف بہت مشکل ہے، یعنی وہ اپنے جوہر میں ایسا تصور ہےجو تعریف کو قبول نہیں کرتا۔ مگر لیوتار نے اپنی کتاب میں مابعدِ جدیدیت کی جو تعریف کی ہے وہ بہت مشہور ہے۔ وہ تعریف یہ ہے:Incredulity Towards Metanarratives یعنی ہر طرح کے مہا اور کبیری بیانیوں سے بد اعتمادی۔ اس کتاب میں اس نے چند باتیں لکھی ہیں جو ہمارے موضوع کے لیے اہم ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ مابعدِ جدیدیت کو بڑے بیانیوں (میٹا نریٹوز) پر شک کی بنا پر پہچانا جاتا ہے۔ روایتی طور پر غالب خیال یہ رہا ہے کہ کسی بھی علم یا نظریے کی اہمیت اور قدر کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ نظریہ تصورِ حقیقت (the correspondence theory of truth) سے کیسی مطابقت رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر ایک اور خیال یہ بھی رہا ہے کہ کسی بھی علم یا نظریے کی قدر متعین کرنے کا طریقہ اس کے خیالات اور اجزا کے نظام کی داخلی ہم آہنگی کو جانچنا ہے جسے Coherence Theory سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیوتار کا کہنا ہے کہ مابعدِ جدیدیت اس کے برعکس عملی (Pragmatic Theory) نقطۂ نظر اختیار کرتی ہے، جس میں کسی علم یا نظریے کو حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں قابلِ عمل ہونے کی بنا پر قابلِ قدر سمجھا جاتا ہے اور اس کی افادیت کی بنا پر اس کو اہمیت دی جاتی ہے، بھلے وہ تصورِ حقیقت سے مطابقت رکھے یا نہیں (کیونکہ حقیقت کا کوئی مطلق تصور تو مابعدِ جدیدت مانتی ہی نہیں) یا اس کے اجزا میں داخلی ہم آہنگی پائی جائے یا نہیں۔ یعنی لیوتار کا کہنا ہے کہ مابعدِ جدیدیت حقیقتِ مطلق اور آفاقی نظامِ علم کے روایتی تصورات کو چیلنج کر کے علم کو جانچنے کے لیے ایک غیر مطلق، لچک دار اور بازاری قیمت پر مبنی معیار پر زور دیتی ہے۔لیوتار نے کہا کہ موجودہ علم میں سب سے اہم چیز کارآمد ہوناہے۔ علم کی اہمیت اس وقت ہوگی جب وہ ایک خاص معنی میں ’’فائدہ مند‘‘ ہو۔اب علم وہ کہلائے گا جو تجارتی امور میں منافع بخش ہو اور اس دور کی مارکیٹ میں ’’قابلِ فروخت سامان‘‘ ہو۔یعنی علم کاروبار بن جائے گا، علم ایک قابلِ فروخت جنس بن جائے گا۔لیوتارمزید لکھتا ہےکہ اب کمپیوٹرائزیشن کا دور آرہاہے جس کے بعد علم میں اِسناد کا فقدان پیدا ہو جائے گا۔ یہ بات ستر کی دہائی میں اس وقت کہی گئی تھی جب سائبر دور کا آغاز ہو رہا تھا اورآج یہ ثابت ہو رہا ہے۔اب آدمی کے بجائے روبوٹ ہے یا مشین، جس میں انسان نے وہ ساری صلاحیتیں منتقل کر دیں۔ اور اسی طرح لیوتار نے کہا تھا کہ اب دنیا میں جو جنگیں ہوں گی وہ جنگیں ڈیٹا پر ہوں گی۔ اس نے ۱۹۷۹ء میں یہ بات کہہ دی تھی کہ اب سب سے بڑا ریسورس ڈیٹا ہوگا۔اور آج Yuval Noah Harari ڈیٹا ازم کا لفظ استعمال کرتا ہے کہ اب جو آنے والا مذہب ہے اس کا نام ڈیٹا ازم ہے۔ آپ دیکھیے کہ اس علم کی یہ گَت بن رہی ہے جو مغرب میں وجود میں آیا اور اس علم سے انسان مِنہا ہو رہا ہے، Renaissance اور Enlightenment کاسارا آئیڈیا ہیومن ازم تھا اور وہ ہیومن ہی غائب ہوگیا۔ یعنی آپ نے معاذ اللہ! خدا سے غداری کی ہے تو پھر انسانیت نام کا جو جانور ہے وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔
جاری ہے

لرننگ پورٹل