لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

گفتگو: ڈاکٹر رشید ارشد
ٹرانسکرپشن: عبد اللہ جان

ماڈرن ٹیکنالوجی کیا ہے؟

اب ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کے بارے میں چند باتیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی کے بارے میں کسی نے یہ بات کہی:

(1) Technology is ontology of our age

(2)Technology is ecology

(3)Technology is ideology

اب اگلی بات یہ ہے کہ یہ عرض کیا گیا تھا کہ انسان کے تقریباً تیں بڑے سوالات فلسفے میں سمجھے جاتے ہیں: وجود کیا ہے؟ شعور یا علم کیا ہے؟ اور قدر کسے کہتے ہیں؟ فلسفے کی اصطلاح میں Ontologyعلم الوجود، Epistemology علم العلم اور Axiology کو علم الاقدار کہتے ہیں۔ پھر علم الاقدار کی دو شاخیں ہیں: Ethicsیعنی اخلاقیات اور Aestheticsیعنی جمالیات۔ ہر دور میں یہ سوال بہت زیادہ اہم تھاکہ سب سے بڑا وجود کیا ہے، آپ دیکھیں یونان میں جو ابتدائی طور فلسفی آئے انھوں نے Cosmologyیعنی کائنات کوموضوع بنایا۔ بعد کے فلسفیوں میں علم الانسان یا علم نفسیات پر توجہ مرکوز رہی، پھر قرونِ وسطیٰ کا دور آیا، جوکرسچن عہدتھا، وہاں کی Ontologyعلمِ الٰہیات قرار پائی، ہر چیز پرtheologyکا غلبہ ہوگیا اور لوگوں نے یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ Philosophy became the handmaiden of theology یعنی اصل فلسفہ تو ختم ہی ہوگیا، بلکہ فلسفہ الٰہیات کی لونڈی بن کر رہ گیا۔ پھر جدیدیت نے آ کردوبارہ انسان کوتوجہ کا مرکز بنادیا، لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد انسان پَسْ منظر میں چلا گیا اور کائنات نے اہمیت حاصل کرلی۔ اسی لیے Walker Percyنے کتاب لکھی تھی، اس کتاب کا نام تھا:.Lost in the Cosmos جب انسان کوDe Divinize کردیا گیا اوراس کے اندر کسی روح کا انکا ر کردیاگیا تو پھر کیا رہ گیا؟ انسان محض ایک مادہ اور حیوان قرار پایا، تو اگر انسان ایک مادہ اور حیوان ہے اور اسی پر تحقیق ہونی ہے تو پھر تو کائنات انسان سے بہت بڑی ہے۔ اس لیے مغرب کے بہت سے بڑے بڑے فلسفی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو آپ انسان کی عظمت اور شرف کی باتیں کر رہے ہیں، ایک طرف آپ Darwinian evolution کو مانتے ہیں اور دوسری طرف آپ Human dignity کی بات کرتے ہیں، یہ مضحکہ خیز ہے۔ John Grayایک بہت بڑا برٹش فلسفی ہے اس کی کئی کتابیں ہیں، Straw Dogsکے نام سے ایک کتاب ہے، اس میں اس نے یہی لکھا ہے کہ یہ ساراتصور ایک فریب ہے،اور یہ اصل میں روشن خیالی اورجدیدیت نے بنیادی طور پر عیسائیت سےچوری کیا ہے۔ ایک کتاب ہے اس کا نام بھی ہے Stealing from God یعنی بہت سےجدیدفلسفیانہ افکار یا Enlightenment valuesاصل میں مذہب سے چوری کی گئیں اور ان کے اوپر انھوں نے سیکیولر لیبل لگادیے۔تو شرفِ انسانیت کا سبب تو انجیل کی نص سے ثابت تھا کہ God created Adam in his own image خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا، اس کے اندر روح میں سے پھونکا، فرشتوں کو اس کے آگے جھکایا، اگر  آپ اس نکتے کو تسلیم نہیں کرتے اور آپ کہتے ہیں کہ انسان حیوان ہی کی ایک ارتقا  شدہ شکل ہے پھر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے شرف کا کوئی مطلب ہی نہیں۔اور انسانی شرف کے بارے میں فرائڈ  نے کہا تھا کہ شرفِ انسانیت کودو بڑےدھچکے لگے:پہلے Copernicusنے کہا کہ زمین مرکزِ کائنات نہیں ہے، زمین تو خود حرکت میں ہے اور سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ پہلے ایک Geocentric تناظر تھا  اور زمین کو مرکز کی حیثیت حاصل تھی، پھر تناظر Heliocentric ہو گیا اور سورج مرکزِ کائنات قرار پایا ،تو انسان کی عظمت کو کچھ تھوڑا سا دھچکا لگا۔ لیکن اتنا  بہرحال رہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہےاور  ایک الگ ممتاز مخلوق ہے۔ دوسرا دھچکا انسان کی عظمت کو ڈاروِن نے لگایا۔ اس نے آکر بتایا کہ انسان کوئی الگ سے مخلوق نہیں ہے،اس کا کوئی روحانی پہلو نہیں ہے۔ انسان بس ایک جانور ہی ہے البتہ زیادہ ترقی یافتہ ہے، اس کا دماغ زیادہ  پختہ ہے اس لیے وہ زیادہ غور و فکر کے معاملات کرسکتا ہے۔ لیکن فرائڈ جو یہ سب کہتا ہے،اس نے تیسرے دھچکے کا ذکر نہیں کیا۔اسی نے آکر انسانیت کو تیسرا دھچکا لگایا۔ اب تک تو یہ بات تھی کہ انسان حیوان تو ہے لیکن یہ حیوان ایک شعور رکھتا ہے اور جانور تو بس جبلتوں کی بنیاد پر زندگی گزارتے ہیں۔ انسان کے اندرconsciousness ہے ، شعور ہے اور اس شعور کے مطابق انسان زندگی بسر کرتاہے۔فرائڈ نے بتایا کہ انسان کا conscious mind اس کی زندگی کوgovern نہیں کرتا بلکہ اس کا Sub Conscious یا Un Conscious mind اسےdictateکرتا ہے اور انسان تو بنیادی طور پر حیوان ہے اور وہ حیوان بھی بیمار ہے۔وہ بنیادی طور پر ایک جنسی حیوان ہے اور جب اس کی جنسی جذبےپر قدغنیں لگائی جاتی ہیں تو پھر وہ کبھی مذہب کی طرف کبھی روحانیت کی طرف کبھی اخلاق کی طرف کبھی جمالیات کی طرف جاتاہے۔ توانسان تو بس ایک جنسی جانور ہے۔  چوتھا دھچکا تب لگا جبAlan Turing نے ایک مشین لرننگ کا تصور دیااور کہاکہ اب ہم بنیادی طور پر انسان کو مشین کے ماڈل پر ڈھالیں گے۔ اسی لیے اب جو ماڈل پیش کیا جا رہا ہے وہCyborgکا ہے جس کا مطلب ہے .half human and half machine یعنی اب انسان کے لیے زیادہ تر analogiesجو استعمال کی جارہی ہیں وہ حیوان کی نہیں بلکہ مشین کی ہیں۔غور کیجیے کہ تصورِ انسان کہاں سے کہاں تک آگیا، تو یہ ہے وہ بات کہ Technology is ontology of our age۔

 دوسری بات جو میں نے عرض کی کہ Technology Is Ecologyتو ٹیکنالوجی محض ایک ایجاد نہیں ہے بلکہ جونئی ٹیکنالوجی آتی ہے اس کے ذریعے انسان اور اس سے سارا ماحول بدل جاتا ہے۔ انسان کے چار طرح کے تعلقات ہیں: انسان کا اپنے خدا سے تعلق ،انسان کا اپنے نفس سے تعلق، انسان کا انسانوں سے تعلق، اور انسان کا کائنات سے تعلق۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کی ہر ایجاد نے انسان کے ان سارے تعلقات کو بدل دیا۔ Marshall McLuhanنے کہا تھا کہ پرنٹنگ پریس نے غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ پھرمشین کی ایجاد نے انسانوں کو بہت تبدیل کیا ہے۔ روشن خیالی اور جدیدیت میں ہسٹری آف آئیڈیاز  ہی کو موضوع بنایا جاتا ہےاور کہا جا تا ہے کہ بنیادی طور پر مغرب میں کچھ نظریات پیش کیے گئےاور پھر وہ پوری دنیا میں پھیل گئے مثلاًFreedom،Equality، Progress،Toleranceوغیرہ۔ Richard M Weaver کی کتاب کا نام ہی Ideas have consequences۔جب یہ کہا جاتا ہے technology is ecologyتو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی بالکل ایک نیا ماحول پیدا کر دیتی ہے۔ ہر چیز بدل جاتی ہے حتیٰ کہ انسان اندر اور باہر سے یکسر بدل جاتاہے۔

تیسرا جملہ میں نے کہا تھا کہTechnology is ideology  تو واضح بات ہے کہ ٹیکنالوجی ویلیو نیوٹرل نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں عام طور پر خیال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی محض ایک آلہ ہے اور اس آلے جو لوگ استعمال کرتے ہیں، وہ جس مقصد کےلیے استعمال کریں گےویسا ہی انھیں نتیجہ مل جائے گا۔ مثال دی جاتی ہے تلوار کی کہ تلوار ایک مجاہد کے ہاتھ میں ہوتو وہ قتال فی سبیل اللّٰہ کے لیے، ظلم کے خاتمے کے لیے، عدل کے قیام کے لیے ہوتی ہے اور وہی تلوار اگر ایک  بلوائی کے ہاتھ میں ہو تو اس سے فساد برپا ہوتا ہے۔ بہت سادگی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی بھی Value Neutral ہوتی ہے۔ وہ ایک خالیvessel کی طرح ہے، آپ اس میں جو بھی چیز ڈال دیں وہ شکل اختیار کر لیتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔کیونکہ میں نے عرض کیا  اس ٹیکنالوجی کے اثر سےانسان کا حقیقت کے بارے میں تصور بدل گیا، انسان کا اپنے بارے میں تصور بدل گیا ،انسان ایک مادی وجود ہے انسان لذت کے حصول کی کوشش میں لگا رہنے والا حیوان ہے۔ اور انسان کا کائنات کے بارے میں بھی تصور بدل گیا ہے۔ اس سے پہلے کائنات کیا تھی؟ سب سے بڑھ کرکائنات کا مصرف یہ تھا کہ کائنات اللہ کی نشانیوں کا مجموعہ ہے اور نمبر دو یہ کائنات نفس کے حقوق کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس کائنات کے ساتھ ہمارے دو طرح کے تعلقات مطلوب تھے: ایک تو یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ کی مذّکِر بنے، اللہ کی یاددہانی کرائے ،اللہ کی آیات کا مجموعہ بنے۔اور دوسرا یہ کہ یہ کائنات اللہ کی نعمتوں کا محل بنے کہ یہ نعمتیں ہم حاصل کریں اور ہمارے اندر شکر گزاری پیدا ہو۔ اس لیے میں نے عرض کیا تھاکہ روایتی آدمی ٹیکنالوجی میں کیوں آگے نہیں بڑھا ؟اس نے دنیا کی لذتوں کو بڑھانے کا پروجیکٹ کیوں اختیار نہیں کیا ؟ سبب یہ ہے کہ وہ ایک مختلف انسان تھا، اس انسان سے جو ستر ھویں اور اٹھارویں صدی میں پیدا ہوا۔اسی لیے ہمارے ہاں لوگ ہیومن رائٹس کی باتیں کرتے ہیں اور پھر ہم اس کو تلاش بھی کرنے لگتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے 1940 ء میں جاکر انسانی حقوق کا چارٹرپیش کیا جبکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا چارٹر تو خطبہ حجتہ الوداع میں ہے وغیرہ وغیرہ۔ Michel Foucault کہتا ہےکہ humanity is a recent invention۔یہ جو modern human ہے یہ اٹھارویں صدی میں پیدا ہوا ہے، اس سے پہلے کا انسان وہ انسان نہیں تھا جو اب پیدا ہوا ہے۔ اور اس کا کائنات سے تعلق ہی بدل گیا۔Francis Bacon نے یہ dictum دیا کہKnowledge Is Power۔ پاور کوئی اخلاقی یاروحانی چیز نہیں ہے۔ اور Michel Foucault نے آکر اس پورے سرکل کو مکمل کردیا:knowledge is sheer violenceکہ پاور بھی کیا ہے، پاور کا مطلب ہے لوگوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ،لوگوں کو لوٹنے کھسوٹنے کی صلاحیت، لوگوں کا استحصال کرنے کی صلاحیت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید آدمی کا نیچر کے ساتھ تعلق بالکل مختلف ہے۔وہ اس کائنات کی ہر چیز کو اس زاویے سےدیکھتا ہے کہ یہ ایک ذریعہ ہے جومیرامنتظر ہے کہ میں کیسے اسے دریافت کروں اور کیسے ذاتی مفاد میں صرف کردوں اور اپنے مصرف میں لے کر آؤں؟روایتی آدمی نے کبھی نیچر کو اس طرح نہیں دیکھا۔  اسی لیے یہ بھی کہا گیا کہ  جدید ٹیکنالوجی کا تعلق سائنس سے زیادہ میجک کے ساتھ ہے۔ جادو میں اشیا میں تحول ہو جاتا ہے، حقیقت کو اپنے موافق ڈھال لیا جاتا ہے اور یہی آج ہو رہاہے۔

مغرب کی نمائندہ اقدار اور ٹیکنالوجی

اب ہم مختصراً یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغرب میں  جن چیزوں کو اقدار سمجھا جاتا تھا، ان کو ٹیکنالوجی نے  کیسے متاثر کیا۔ اہلِ مغرب کی سب سے بڑی قدر freedomیا آزادی تھی اور آزادی تمام اقدار سے بڑھ کر تھی۔ لیکن اب ان کے بڑے لوگوں کو یہ لگ رہا ہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی نے ہماری آزادی سلب کرلی۔اس میں ایک  پہلو تو Surveillance کا ہے ،اتنی زیادہ جاسوسی اور نگرانی ہے کہ ریاست ہمیں اندر اور باہر سے دیکھ رہی ہے، اور اس جاسوسی میں مارکیٹ کی مدد شامل ہوتی ہے۔ اسٹیٹ اور مارکیٹ کا آپس میں گٹھ جوڑ ہوجاتا ہے اور اس کے ذریعے جو ٹیکنالوجی وجود میں آتی ہے اس میں ہر چیز گویا  ریاست کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ human autonomyپر جس طرح ٹیکنالوجی نےجبر کیا ہےناقابلِ بیان ہے۔اب تصور یہ ہےکہ جو چیز ایجاد کی جاسکتی ہے وہ ایجاد کرنی ضروری ہے حالانکہ پرانے لوگوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ بہت سی چیزیں ان کے سامنے آتی رہیں مگر انھوں نےاسے مشغلہ  نہیں بنایا۔تصور یہ تھا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اس میں ہماری آخرت کےلیے فائدہ نہیں ہے ۔ توآزادی کو ٹیکنالوجی نے سلب کیا اور نہایت سفاکی کے ساتھ سلب کیا۔ پہلےکہتے تھےکہBig brother is watching you،اب کہتے ہیں کہ Big data is watching youاور اب Data dictatorship کا دور جاری و ساری ہے۔

دوسری بڑی قدر اہلِ مغرب کے یہاں Equality  یا مساوات تھی۔ لیکن اب یہ ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہے وہ ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے اپنی قوت، صلاحیت اور اپنے تصرفات میں  بہت اضافہ کر سکتا ہے اور  ایک برتر حیثیت حاصل کر سکتا ہے، لیکن یہ بہت تھوڑے سے ہوں گے۔ اور باقی انسانیت ساری کی ساری اچھوت   اور نچلے درجے کے  ہوجائے گی۔ C. S. Lewis نے یہ بات 1930ءمیں کہی تھی۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہےThe Abolition Of Man۔اس نے کہا ہے کہ یہ جوفطرت کو یانیچرکو مسخرکرنے کا پروجیکٹ ہے، یہ بنیادی طور پر فطرت کی تسخیرنہیں ہے بلکہ Conquering Of  Humanity By Some People ہے۔ یعنی فطرت کو چند لوگ دریافت کر رہے ہیں، انسانوں پر بھی وہی کنٹرول رکھتے  ہیں اور یہی لوگ  conditioners of the world  ہوں گے ۔ یہ سب لوگوں کو کنڈیشن کریں  گے اور باقی سب لوگ ان کے محتاج ہو جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برابری کا خواب بھی ختم ہو رہا ہے۔

ایک اور قدرhumanityیا humanismیعنی انسانیت تھی۔آج یہ کہا جا رہا ہے کہ مشین انسانوں سے زیادہ ذہین اورزیادہ طاقتور ہوتی چکی ہے۔ مشینوں کے ذریعے لذت کا حصول زیادہ ہوتا جارہا ہے، تو پھر وہ انسان کہاں گیا انسان تو غائب ہوگیا۔

اس کے بعد ایک بہت بڑی قدر happiness یعنی خوشی اور سرور تھا۔ اس کو انھوں نے بت بنایا لیکن اب ا ن کو یہ لگ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیں بیگانگی کی طرف دھکیل رہی ہے،اورڈپریس کررہی ہے۔ اس پرتو بہت سی اسٹڈیز آچکی ہیں کہ جو لوگ جتنا زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ اتنااداس رہتے ہیں اور ڈپریس ہوتے ہیں۔ بظاہرلگتا ہے کہ اس نے ہمیں لوگوں سے جوڑ دیا ہے لیکن حقیقت میں اس نے ہمیں بہت تنہا کردیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیس بک پریا مختلف چینلز پر    جناب کے پانچ سو فرینڈز ہیں لیکن گوشت پوست کا دوست ایک بھی نہیں ہے، یہ تو ایک جعلی تعلق ہے،قربت تھوڑی ہے ۔کمیونٹی وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ آپ کا فزیکل تعلق ہو۔اہلِ مغرب کا  ایک اور خواب جمہوریت تھا۔لیکن اب جمہوریت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حکومت جتنی زیادہ totalitarianہوگی اور جتنا آمرانہ  برتاؤ کرے اتنا ہی وہ مضبوط ہوگی، تو پھر جمہوریت کیا ہوئی۔ اس کے بعد  progressکا آئیڈیا تھا،اور ایک Utopian View تھا کہ ہم دنیا کو جنت بنا دیں  گے، لیکن اب ہم دیکھتے ہیں ستر، اسی سال سے جو لٹریچر چھپ رہا ہے وہ Dystopian ہے ،یعنی ادبیات میں ایسا دکھایا جاتا ہے کہ گویا ٹیکنالوجی دنیا کو جہنم بنا دے گی۔پھر اسی طرح ایک تصور post humanکا بھی ہے کہ اب انسانیت Transhumanismکی طرف جارہی ہے گویا انسانیت اپنی موجودہ جسمانی و ذہنی  حدود توڑ کر اوپر اٹھ رہی ہے۔یہ ساری باتیں وہ ہیں  جن کو مغرب والے خود بتا رہے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی پربات ہوتی ہے،  تو ہوتا یہی  ہے کہ what technology is doing for usزیادہ تر یہی ہوتی ہے ۔اور جب بھی ہم اس پر غور کریں گے تو  ٹیکنالوجی کو   ہم  appreciate  ہی کریں گے اور ہم اس کے فضائل ہی بیان کریں گے۔ لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ  What technology is doing with us ،اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب لوگ اس پر بھی غور کریں۔ہم کسی آرام دہ ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہوں، لائٹیں جل رہی ہوں، سہولت  میسر ہو تو یہی لگتا ہے کہ ٹیکنالوجی  ہمیں  بہت کچھ ڈلیور کرہی ہے تو ہم سب اس کے شکر گزار ہوتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی ہمارے ساتھ کچھ کررہی ہے اور ہمیں جس طرح بدل رہی ہےاس کا شعور شاید ہمیں نہیں ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ اس پہلو کو بھی Problematizeکیا جانا چاہیےاور اس پر بھی گفتگوہونی چاہیے۔

جاری ہے

لرننگ پورٹل